1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روسی پارلیمنٹ میں سٹارٹ معاہدے کی منظوری

روسی ایوانِ زیریں نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے تخفیفِ اسلحہ کے معاہدے کی توثیق کر دی ہے۔ دونوں ممالک کے مابین دو دہائیوں کے عرصے میں طے پانا والا اس نوعیت کا یہ پہلا معاہدہ ہے۔ ایوان بالا کی جانب سے منظوری آج متوقع ہے۔

default

روس کا ایوانِ زیریں

روسی پارلیمنٹ میں 350 ارکان نے منگل کو سٹارٹ معاہدے کے حق میں جبکہ نوّے نے اس کے خلاف ووٹ دیے۔ قبل ازیں ایوانِ زیریں نے کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے اس ٹریٹی کو خارج کرنے کی تجویز مسترد کر دی تھی۔

رکن پارلیمنٹ Vladimir Zhirinovsky نے ووٹنگ سے پہلے ایک بیان میں کہا، ’ہمیں امریکہ پر بھروسہ نہیں، ان کے ساتھ معاہدہ کرنا خطرناک ہے۔ وہ ہم سے نفرت کرتے ہیں۔‘

اب بدھ کو ایوان بالا فیڈریشن کونسل میں اس پر بحث ہوگی۔ ایوانِ زیریں نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے میزائل ڈیفنس کے منصوبوں میں پیش رفت نہ ہوئی تو سٹارٹ معاہدہ فعال نہیں ہو سکے گا۔ روس ایسے دفاعی منصوبوں کے لیے گزشتہ کچھ سالوں سے کوشش کر رہا ہے۔

امریکی سینیٹ نے سٹارٹ کی منظوری گزشتہ ماہ دے دی تھی۔ دونوں ملکوں کے درمیان یہ معاہدہ 1991ء میں طے پایا تھا، جس کی مدت 2009ء میں ختم ہو گئی تھی۔ نئے معاہدے پر امریکی صدر باراک اوباما اور ان کے روسی ہم منصب دیمتری میدویدیف نے آٹھ اپریل 2010ء کو پراگ میں دستخط کیے تھے۔ یہ معاہدہ طویل مذاکرات کے بعد ممکن ہوا تھا۔

Nuklear Konferenz Obama und Dmitry Medvedev

باراک اوباما اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ

امریکہ کے نزدیک سٹارٹ معاہدہ روس کے لیے ایک رعایت ہے، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان نئے مذاکراتی عمل کا آغاز ہو سکتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت انہیں پرانے ہتھیاروں میں 30 فیصد تک کمی کرنا ہو گی جبکہ دُور مار میزائل اور بھاری ہتھیاروں کی تعداد سات سو تک محدود رکھنا ہو گی۔

پارلیمنٹ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو روس یوکرائن کے ساتھ عسکری اور تکنیکی شعبوں میں تعاون بڑھا دے گا۔

واشنگٹن انتظامیہ روس کے ساتھ تخفیف اسلحہ پر مذاکرات کے نئے دَور کی خواہش بھی رکھتی ہے، جن میں کم فاصلے تک مار کرنے والے جوہری میزائلوں پر بات ہو سکتی ہے۔ یہ نکتہ اہم ہے کہ روس اس نوعیت کے میزائل بنانے میں خاص مہارت رکھتا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس