1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روسی پارلیمانی انتخابات، پوٹن کے لیے سیاسی دھچکا

روسی وزیر اعظم ولادیمیر پوٹن کی سیاسی جماعت اتوار کو منعقد ہوئے پارلیمانی انتخابات میں انتہائی مشکل کے ساتھ پچاس فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ ان ابتدائی نتائج کو پوٹن کے لیے ایک سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

default

اتوار کو منعقد ہوئے پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی غیر سرکاری نتائج کے مطابق روسی وزیر اعظم کی سیاسی پارٹی یونائیٹڈ رشیا کو 49.79 فیصد ووٹ پڑے ہیں۔ روس کے مرکزی الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کیے گئے قریب 92 فیصد پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج کے مطابق یوں لگتا ہے کہ پوٹن کی پارٹی اب اپنی دو تہائی پارلیمانی اکثریت کھو دے گی اور اب اسے آئین میں ترامیم کے لیے دیگر سیاسی پارٹیوں کی ضرورت پڑے گی۔

Flash-Galerie Russland Putin Selbstdarstellung Medwedew

وزیر اعظم پوٹن اور صدر دیمتری میدویدیف

اپوزیشن نے الزامات عائد کیے ہیں کہ انتخابی عمل کے دوران روسی حکام نے ایسے سیاسی حربے استعمال کیے، جن سے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات ابھر آئے ہیں۔ ان نتائج کے مطابق روس کی مرکزی اپوزیشن کمیونسٹ پارٹی کو 19.5 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ 2007ء میں منعقد ہوئے گزشتہ انتخابات میں اسے صرف 12 فیصد ووٹ مل سکے تھے۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق یونائیٹڈ رشیا کی اس بری کارکردگی کی وجہ پوٹن کی طرف سے ایک مرتبہ پھر صدارتی امیدواری کے لیے سامنے آنا ہے۔ ان کے بقول روسی عوام پوٹن کے گیارہ سالہ اقتدار سے کوئی خاص خوش نہیں ہیں، اس لیے انہوں نے اس پارٹی کو ووٹ نہیں ڈالے۔

گزشتہ انتخابات میں روسی وزیر اعظم پوٹن کی پارٹی کو 64.3 فیصد ووٹ ملے تھے اور اس نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس وقت پوٹن کی پارٹی کو پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی دوما کی کُل ساڑھے چار سو نشستوں میں سے 315 نشستیں حاصل ہیں۔ لیکن اس مرتبہ کے انتخابات کے نتائج کے مطابق پوٹن کی پارٹی نے اپنی بھاری اکثریت کھو دی ہے۔

NO FLASH Wladimir Putin neutral

روسی وزیراعظم پوٹن کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے

اس نئی پیشرفت کے بعد روسی وزیر اعظم پوٹن نے پارٹی کے صدر دفتر کے باہر اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے انہیں مطلوبہ ووٹ مل چکے ہیں۔ اس موقع پر صدر دیمتری میدویدیف بھی پوٹن کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ روس میں جمہوریت فروغ پا رہی ہے۔ میدویدیف نے مزید کہا کہ ان کی پارٹی اب سیاسی اتحاد بنانے کے لیے مذاکرات شروع کرے گی۔

کمیونسٹ پارٹی کے منجھے ہوئے سیاستدان گیناڈی سیوگانوف نے انتخابات کے ابتدائی نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کریملن کے لیے ایک وارننگ ہے کہ اسے اب پارلیمان میں اپوزیشن کو جگہ دینا ہو گی۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس