1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

روسی ٹیم کا یورو کپ سے باہر ہونے کا خدشہ

فرانس میں جاری یورو فٹبال کپ میں خدشہ ہے کہ اگر روسی فٹ بال شائقین کی طرف سے اسٹیڈیم میں مزید ہنگامہ آرائی کی گئی توروس کی ٹیم کو یورو کپ سے باہر کیا جا سکتا ہے۔

Frankreich Polizei stoppt Bus mit russischen Fußballfans

روس اور انگلستان کی ٹیموں کے حامیوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ تین روز تک جاری رہا تھا

منگل کے روز یوئیفا کی جانب سے روسی فٹ بال یونین پر150،000 یورو جرمانہ اور عارضی نا اہلی عائد کی گئی تھی۔ جنوبی فرانسیسی شہر مارسے میں ہفتے کی شام انگلستان اور روس کی ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے میچ میں نقاب پوش روسی شائقین پر الزام ہے کہ وہ میچ کے ایک ایک گول سے برابر رہنے کے بعد مشتعل ہو کر انگریز مداحین کے ساتھ دست و گریباں ہو گئے تھے۔

روسی ٹیم کے پرستار ساحلی شہر مارسے میں انگلستانی ٹیم کےحامیوں کے ساتھ میچ کے آغاز سے پہلے اور بعد میں ہونے والی پر تشدد جھڑپوں میں بھی ملوث پائے گئے تھے۔ اپنے ایک بیان میں یورپی فٹ بال فیڈریشن کا کہنا تھا، ’’ روسی شائقین پرمجمع میں خلل پیدا کرنے،آتش بازی اور نسل پرستانہ رویے کا مظاہرہ کرنے کے الزامات ہیں۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹورنامنٹ کے دوران روسی ٹیم کے باقی میچوں میں سے کسی بھی میچ کے دوران اگر اس نوعیت کے مزید واقعات ہوئے تو عارضی معطلی کو منسوخ کرتے ہوئے روس کی ٹیم کو یورو چیمپئن شپ سے باہر کر دیا جائے گا۔ دوسری جانب روس کے وزیر کھیل وٹیلی موٹکو نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا،'' روس جو یوروکپ 2018 کا میزبان چنا جا چکا ہے اس پابندی کے خلاف اپیل نہیں کرے گا۔ روس پر جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ پہلے سے طے تھا۔ انتظامی کمیٹی اس بارے میں فیصلہ لے چکی تھی اور اب صرف اس کی تصدیق کرنا باقی تھا۔‘‘

خیال رہے کہ اسٹیڈیم سے شروع ہونے والے تشدد کے ان واقعات کے بعد فرانس کے ساحلی شہر مارسے میں روس اور انگلستان کی ٹیموں کے حامیوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کا یہ سلسلہ تین روز تک جاری رہا تھا۔ گزشتہ منگل کو یورپی ممالک میں فٹبال کی نگران تنظیم یوئیفا نے پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایسے واقعات کی روک تھام نہ کی گئی تو انگلستان اور روس کی ٹیموں کو سن 2016 کے یورو کپ سے نا اہل قرار دیا جا سکتا ہے۔

DW.COM