1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روسی وزیر خزانہ مستعفی

روسی صدر دیمتری میدویدیف کے ساتھ اختلافات کے بعد ملکی وزیرخزانہ الیکسائے کودرِن نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے استعفے کو روس کے حکمران طبقے میں نمایاں ہوتی ہوئی دراڑوں سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

default

الیکسائے کودرن

کریملن کے ایک ترجمان کے مطابق کودرن نے اپنا استعفیٰ پیر کو دیر گئے جمع کرایا۔ کوردن کی طرف سے حیرت انگیز طور پر حکومت کے خلاف سخت بیان دیا گیا تھا، جس کے بعد صدر نے ان سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا تھا۔ کودرن کی طرف سے اختتام ہفتہ پر کہا گیا تھا کہ وہ صدر میدویدیف کی معاشی پالیسی سے اتفاق نہیں کرتے اور وہ ایسی کابینہ میں خدمات انجام نہیں دیں گے جس کی سربراہی میدیدیف کر رہے ہوں۔

مبصرین کے مطابق کودرن کا استعفیٰ ولادمیر پوتن کی صدر کی حیثیت سے دوبارہ واپسی کے امکان کے حوالے سے خاصا اہمیت کا حامل ہے اور یہ روسی حکمرانوں کی صفوں میں انتشار کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

Russland neue Regierung in Moskau vorgestellt

ولادمیر پوتن روس کے طاقتور ترین شخص سمجھے جاتے ہیں

مغربی سرمایہ کار کودرن کو روس میں معاشی استحکام کا ضامن سمجھتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ کودرن کی رخصتی روسی اقتصادیات پر ایک کاری ضرب ہے اور اس سے روسی معیشت میں اصلاحات کے امکانات کم ہو جائیں گے۔

مبصرین کا خیال ہے کودرن اس بات پر بھی ناراض تھے کہ انہیں امید تھی کہ پوتن کے صدر بنائے جانے کی صورت میں ان کو وزارت عظمیٰ کا عہدہ سونپ دیا جائے گا مگر ایسا نہ ہوا۔ بعض تجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ کودرن نے عالمی اقتصادیات پر امریکی حکومت کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے بھی ولادمیر پوتن کو خفا کیا۔ تاہم سب سے زیادہ اہم بات کودرن سے استعفیٰ طلب کیا جانا تھا۔

بعض جائزوں کے مطابق کرپشن پر نالاں روسی عوام ملک میں جمہوریت کی عدم موجودگی پر بھی نالاں ہیں۔ روس میں ولادمیر پوتن کو طاقتور ترین شخص سمجھا جاتا ہے۔ پوتن چھ برس کے لیے صدارتی عہدے کے لیے دو انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔ اگر وہ دونوں انتخابات میں جیت جاتے ہیں تو وہ سن دو ہزار چوبیس تک روس میں برسر اقتدار رہ سکیں گے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄  خبررساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

 

DW.COM