1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روسی وزیر خارجہ کی استنبول میں علی بابا جان سے ملاقات

روسی وزیر خارجہ سیرگے لاوروف نے کل منگل کے روز استنبول میں اپنے ترک ہم منصب علی بابا جان کے ساتھ قفقاز تنازعے کے حوالے سے بات چیت کی۔ اِس ملاقات میں روس میں ترک مصنوعات کی درآمد پر پابندی کے بارے میں بھی بات چیت کی گئی۔

default

ترکی کے وزیر خارجہ علی بابا جان

روسی وزیر خارجہ سیرگے لاوروف کو ماسکو سے طیارےکے ذریعے استنبول پہنچنے میں کوئی تین گھنٹے لگے۔ تاہم آج کل اگر ترکی سے روس جانا ہو تو اِس سے کہیں زیادہ وقت لگتا ہے۔ اِس کا اندازہ خاص طور پر اُن تُرک ٹرک ڈرائیوروں کو ہو رہا ہے، جو کپڑا یا پھر ٹماٹر وغیرہ روس پہنچانا چاہتے ہیں۔ روسی کسٹم کے حکام ایک ایک ڈِبے کو کھولتے ہیں اور ایک ایک چیز کو اچھی طرح سے جانچتے ہیں۔

غیر ممالک کے ساتھ تجارت کے امور سے متعلق تُرک وزیر کُرساد تُزمن اِس بات پر برہم ہیں کہ کئی ایک ٹرک ڈرائیوروں کو روسی سرحد پر انتظار کرتے کرتے بیس دِن ہو چکے ہیں۔ تجارتی جنگ کی دھمکی دیتے ہوئے اُنہوں نے کہا:’’رُوس تُرک مصنوعات کے لئے کسٹم کے جو قوانین متعارِف کروائے گا، وہی ضابطے تُرک کسٹم حکام کی جانب سے روسی مصنوعات کے لئے متعارِف کروائے جائیں گے۔‘‘

تاہم توانائی کے شعبے کے سابق تُرک وزیر پامیر کے مطابق یہ ایک بنیادی غلطی ہو گی کیونکہ رُوس کا پلا بھاری ہے۔ ترکی روس سے آنے والے تیل اور گیس کا محتاج ہے۔ پامیر تجارتی جنگ سے باز رہنے کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ اُن کے خیال میں ایسی جنگ شروع کرنے کا مطلب یہی ہو گا، گویا روس بیس بال کا بَیٹ استعمال کر رہا ہو اور ترکی وہ تنکا، جس سے دانتوں میں خلال کیا کرتے ہیں۔

Sergei Wiktorowitsch Lawrow Sicherheitsrat der russischen Föderation

روسی وزیر خارجہ سیرگے لاوروف

اِس پس منظر میں روسی وزیر خارجہ لاوروف اور اُن کے تُرک ہم منصب کے درمیان کل استنبول میں ہونے والی ملاقات کا ماحول مفاہمانہ اور دوستانہ تھا۔ دونوں وُزراء نے کامیابیوں اور مختلف ریکارڈز کا ذکر کیا۔ مثلاً یہ بتایا گیا کہ ترکی کے لئے روس نمبر ایک تجارتی ساتھی ہے اور باہمی تجارت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ تین ملین روسی باشندے ہر سال ترکی کی سیاحت کو جاتے ہیں اور اِس تعداد میں بھی اضافے کا رجحان نظر آ رہا ہے۔

تاہم تُرک وزیرِ خارجہ بابا جان نے کہا:’’اِس مثبت میزانیے کے باوجود ایک مسئلہ ہے اور وہ یہ کہ ترکی سے مصنوعات کو روس پہنچانے میں روسی کسٹم حکام کی سست رفتاری کی وجہ سے رکاوٹ پیش آ رہی ہے۔ ہم نے اِس موضوع پر تبادلہء خیال کیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اِس مسئلے پر قابو پا لیا جائے گا۔‘‘

دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ دونوں وُزراء نے اِس موضوع پر بات چیت تو کی لیکن اُن کے درمیان اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا۔ گویا ابھی یہ مسئلہ موجود رہے گا۔

لاوروف نے البتہ اِن قیاس آرائیوں کی تردید کی کہ سرحد پر پیش آنے والی رکاوٹوں کا قفقاز تنازعے سے کوئی تعلق ہو سکتا ہے۔ ترکی کے اخبارات میں بڑے بھرپور طریقے سے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ روسی سرحد پر ترک مصنوعات کے راستے میں کھڑی کی جانے والی یہ رکاوٹیں روس کی طرف سے اِس بات کی سزا ہیں کہ ترکی نے بحیرہء اَسوَد میں باسفورس کے راستے اُن امریکی بحری جنگی جہازوں کو گذرنے دیا ہے، جو جارجیا جانا چاہتے تھے۔

لاوروف نے کہا کہ ایسا بالکل نہیں ہے بلکہ مسئلہ محصولات کے قوانین میں پیدا ہونے والے کچھ مسائل کا ہے۔ ترکی کی مصنوعات کو اِس لئے اتنی باریکی سے جانچا جا رہا ہے کیونکہ اکثر صورتوں میں وہ روسی معیارات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ ٹماٹروں سے لدے ہوئے ایک ٹرکی کی مثال دیتے ہوئے لاوروف نے کہا کہ یہ حفظانِ صحت کے روسی معیار ات سے ہم آہنگ نہیں تھے۔ لاوروف کے مطابق دونوں ملکوں کے کسٹم کے محکمے اِس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Türkei USA Versorgungsschiff auf dem Weg nach Georgien

جارجیا کے لئے امدادی سامان لے کر جانے والا امریکی بحری جہاز Dallas ترکی کے پانیوں میں سے گذر ر ہا ہے

اِس کے باوجود ترک اخبارات میں قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے کہ مثلاً روس ترکی کو گیس کی فراہم بند کر دے گا۔ اِس سلسلے میں ایک سوال کے جواب میں لاروف نے کہا کہ یہ سب فضول باتیں ہیں، روس ایسا بھلا کیوں کرنے لگا۔

اِن تمام یقین دہانیوں کے باوجود بنیادی اختلافات اپنی جگہ برقرار ہیں۔ روس جارجیا کو اپنا دشمن سمجھتا ہے اور جنوبی اوسیتیا اور ابخازیہ کی آزادی اور خود مختاری کا دفاع کرتا ہے۔ ترکی اِن علاقوں کو بدستور جاجیا کے حصے تسلیم کرتا ہے، جیسا کۃ ترک وزیر خارجہ علی بابا جان نے کہا بھی:’’ہم جارجیا کی وحدت، حاکمیتِ اعلیٰ اور آزادی کو بے حد اہمیت دیتے ہیں۔ اِس معاملے میں روس اور ہمارا نقطہء نظر ایک نہیں ہے لیکن اختلافِ رائے تو بعض اوقات دوستوں میں بھی ہو ہی جاتا ہے۔‘‘

حقیقت بھی یہ ہے کہ کئی دیگر ملکوں کے برعکس ترکی نے جارجیا میں روسی دَستوں کی پیشقدمی کی زیادہ سخت الفاظ میں مذمت نہیں کی ہے۔