1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روسی وزیر اعظم کے دورہء بھارت پر اہم معاہدے متوقع

روسی وزیر اعظم ولادیمیر پوٹین کے دورہء بھارت کے دوران ماسکو اور نئی دہلی کے درمیان دفاع اور دیگر اہم شعبوں میں تقریباً دس ارب ڈالرز کی خطیر رقوم کے معاہدے طے پائیں گے۔

default

روسی وزیر اعظم ولادیمیر پوٹین اور بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ

امریکہ سے نزدیکیوں کے باوجود بھارت کےروس کے ساتھ بہتر تعلقات اثر انداز نہیں ہوئے ہیں۔

Indien Russland Wladimir Putin bei Manmohan Singh in Delhi

روسی وزیر اعظم پوٹین بھارتی وزیر اعظم کے علاوہ کانگریس صدر سونیا گاندھی سے بھی ملاقات کریں گے

روسی وزیر اعظم پوٹین اسی ہفتے بھارت کے دو روزہ دورے پر جا رہے ہیں۔ پوٹین کی خارجہ پالیسی کے ایک اعلیٰ عہدے دار یوری اُوشاکوف کے مطابق اس دورے کے دوران دونوں حکومتوں کے درمیان مختلف شعبوں میں اہم معاہدے ہوں گے، جن میں دفاعی شعبہ خاص طور سے شامل ہے۔ یوری اُوشاکوف نے کہا کہ بھارت کے ساتھ روس کے مفادات جڑے ہیں۔ اُن کے مطابق نئے معاہدوں سے بھارت اور روس ایک دوسرے کے مزید قریب آجائیں گے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق روس اور بھارت سن 2015ء تک بیس ارب ڈالرز کا تجارتی ٹرن اوور دیکھنا چاہتے ہیں۔

روسی اور بھارتی حکام کے درمیان بارہ مارچ بروز جمعہ تقریباً پندرہ معاہدے طے پائیں گے، جن میں ایک سمجھوتے کے تحت ماسکو حکومت نئی دہلی کو انتیس MiG جنگی طیارے فروخت کرے گی۔

Luft- und Raumfahrtmesse MAKS 2007 bei Moskau

روسی جنگی جہاز

روسی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق وزیر اعظم ولادیمیر پوٹین جمعرات کی شب بھارت کے دورے پر روانہ ہوجائیں گے۔ پوٹین کا یہ دورہ جمعہ کی شب تک جاری رہے گا۔ اس دورے کے دوران وہ بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ، بھارتی صدر پرتیبھا پاٹل، حکمران متحدہ ترقی پسند اتحاد کی چیئرپرسن اور کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کے ساتھ ملاقات کرنے والے ہیں۔

روسی وزیر اعظم کی حیثیت سے یہ پوٹین کا پہلا دورہء بھارت ہوگا۔ صدر کی حیثیت سے پوٹین آخری مرتبہ سن2007ء میں بھارت کے دورے پرگئے تھے۔

دوسری جانب بھارت میں بدھ کو ہی سیکیورٹی سے متعلق کابینہ پینل نے ایک اہم میٹنگ کی۔ اس اجلاس میں روس کے ساتھ متنازعہ ’گورشکوف ایئرکرافٹ کیریر‘ کے معاہدے کے سلسلے میں اضافی ڈھائی ارب روپے کی رقوم کی ادائیگی کو منظوری ملی۔ معاہدے کے مطابق روس ’گورشکوف کیریر‘ سن 2013 تک بھارت کو فراہم کرے گا۔

حالیہ برسوں میں نئی دہلی اور واشنگٹن کی قربت کے باوجود ماسکو اور نئی دہلی کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوئے ہیں، لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ بھارت کے ساتھ روس کے نئے معاہدوں کے بعد امریکہ کا ردعمل کیسا ہوگا۔

رپورٹ : گوہر نذیر گیلانی

ادارت : افسر اعوان

DW.COM