1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روسی وزیر اعظم کا دورہ ابخازیہ، جارجیا اور یوکرائن کی برہمی

روسی وزیراعظم ولادی میر پوٹن نے اپنے دورہ ابخازیہ کے دوران جارجیا کے باغی علاقے ابخازیہ کوعسکری تعاون کے طور پر ایک خطیر رقم دینے کا اعلان کیا اور اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ ابخازیہ کو بطور ایک آزاد مملکت تسلیم کرے۔

default

ابخازیہ میں ولادی میر پوٹن کا استقبال

تقریبا ایک سال قبل ابخازیہ اور جنوبی اوسیتیا کے تنازعہ پر روس اور جارجیا کے مابین ہونے والی ایک مختصر جنگ کے بعد ماسکو نے ان دونوں علاقوں کو آزاد ریاستیں تسلیم کر لیا تھا۔ جارجیا کے باغی علاقوں کو آزاد مملکت کے طور پر تسلیم کرنے کےبعد روسی وزیر اعظم نے پہلی مرتبہ ابخازیہ کا دورہ کیا ہے۔

Sergej Bagapsch Präsident Abchasien

ابخازیہ کے رہنما Sergei Bagapsh

ابخازیہ کے دارالحکومت سخومی میں باغی رہنما Sergei Bagapsh سے ملاقات کے بعد پوٹن نے کہا کہ روس ابخازیہ کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور اگر ضرورت پڑی تو عسکری تعاون بھی کرے گا۔ پوٹن نے جارجیا کے ساتھ ہونے والی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب سن 2008 ء والی صورتحال دوبارہ پیدا نہیں ہو گی کیونکہ اُس وقت روس نے ابخازیہ کو آزاد ریاست تسلیم نہیں کیا تھا۔

پوٹن نے اقوام متحدہ اور سیکیورٹی اور تعاون کی یورپی تنظیم OSCE پر زور دیا کہ اگر یہ ادارے ان علاقوں میں غیر جانبدار معائنہ کار بھیجنا چاہتے ہیں تو اُنہیں ابخازیہ اور جنوبی اوسیتیا کا آزاد تشخص تسلیم کرنا ہو گا۔

اس دورے سے قبل روسی وزیر اعظم نے صحافیوں کو بتایا کہ تناؤ کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے روس ابخازیہ میں سیکیورٹی کے طور پر نصف بلین ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ پوٹن نے کہا کہ روس نہ صرف ابخازیہ میں اپنی افواج تعینات کرے گا بلکہ سلامتی کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لئے جنوبی اوسیتیا اور ابخازیہ کی سرحدوں کو جدید بنیادوں پراستوار کرے گا۔ روسی وزیر اعظم نے کہا کہ اس سلسلے میں تقریبا 460 ملین ڈالر خرچ کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ابخازیہ میں اقتصادی ترقی کے لئے آئندہ دو سالوں میں ساڑھے تین سو ملین ڈالر خرچ کئے جائیں گے۔ اس دورے میں ولادی میر پوٹن نے کہا کہ ابخازیہ کا جارجیا کے ساتھ کوئی نیا تنازعہ کھڑا ہونے کے نتیجے میں روس ابخازیہ کو عسکری مدد فراہم کرے گا۔

دوسری طرف جارجیا کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں ولادی میر پوٹن کے اس دورے پر کڑی تنقید کی گئی ہے اور روس پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ قفقاز کے علاقے میں مزید تناؤ پیدا کر رہا ہے۔ دوسری طرف برطانیہ نے بھی روس کے ان منصوبوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں تناؤ میں اضافے کی وجہ قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ جب روسی صدر دیمتری میدویدیف نے جنوبی اوسیتیا کا دورہ کیا تھا تو امریکہ سمیت یورپی یونین نے اس دورے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ جارجیا کی سرحدی حدود کا احترام کیا جانا چاہئے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گل