1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روسی وزیر اعظم ولادی میر پوٹن چین کے اہم دورے پر

روسی وزیر اعظم اور مستقبل کے ممکنہ صدر ولادی میر پوٹن آج سے چین کا اہم دورہ شروع کر رہے ہیں، جس دوران دیگر بین الاقوامی امور سمیت اربوں ڈالر مالیت کے گیس پائپ لائن منصوبے پر بھی پیشرفت کی کوشش کی جائے گی۔

default

ماسکو اور بیجنگ کے مابین طویل عرصے سے اس گیس پائپ لائن منصوبے پر مذاکرات ہو رہے ہیں مگر قیمت کا تعین نہ ہونے کے سبب پیشرفت نہیں ہوسکی ہے۔ منصوبے کے تحت روس سے سالانہ بنیادوں پر 68 ارب کیوبک میٹر گیس چین کو سپلائی کی جاسکے گی۔ دونوں ممالک اس 30 سالہ منصوبے کے مسودے پر دستخط کرچکے ہیں مگر تاحال حتمی معاہدہ طے نہیں ہوا۔

روسی صدر نے حال ہی میں 2012ء کے صدارتی انتخابات کے لیے وزیر اعظم پوٹن کو نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس بنیاد پر پوٹن کے تیسری مدت کے لیے روس کے اقتدار اعلیٰ پر براجمان ہونے کے امکانات خاصے روشن ہیں۔  وزیر اعظم پوٹن کے ہمراہ 160 رکنی روسی تاجروں کا وفد بھی چین کا دورہ کر رہا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق چین کے نائب وزیر اعظم وانگ کیشان Wang Qishan  اپنے روسی ہم منصب ایگور سیچن Igor Sechin کے ہمراہ توانائی سے متعلق امور پر تازہ مذاکرات کریں گے۔

ادھر روس میں گیس کی برآمد سے متعلق ادارے گاز فروم کے سربراہ الیگزینڈر میدویدیف کا کہنا ہے کہ وہ ان مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے۔ میدویدیف کی ان مذاکرات میں عدم شرکت اس بات کا اشارہ ہے کہ شاید وزیر اعظم پوٹن کے حالیہ دورے میں کوئی حتمی معاہدہ طے نہ ہو۔

NO FLASH Dmitri Medwedew und Wladimir Putin

روسی صدر دیمتری میدویدیف نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ اگلے صدارتی انتخاب کے لیے پوٹن کو نامزد کیا جائے گا

خبر رساں ادارے روئٹرز کے تبصرے کے مطابق اگرچہ دونوں ممالک کے مابین کئی بین الاقوامی امور پر برادرانہ خیرسگالی کا جذبہ پایا جاتا ہے مگر زمانہء سرد جنگ سے موجود عدم اعتماد کی ایک فضا کسی بڑے اقتصادی منصوبے کی راہ میں رکاوٹ بنتی نظر آرہی ہے۔ انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ اسٹاک ہولم کی ایک رپورٹ کے مطابق چین اب اسلحے اور توانائی کے لیے پہلے کی طرح روس پر بہت زیادہ انحصار نہیں کرتا اسی لیے ماسکو کا بیجنگ پر اثر و رسوخ بھی کم ہوا ہے۔ 

ماسکو میں ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم پوٹن کے ہمراہ جانے والے وفد کے ارکان توانائی کے شعبے سمیت دیگر اہم امور پر بھی تبادلہء خیال کریں گے۔ روس اور چین کی باہمی تجارت کا تخمینہ رواں سال 59 ارب ڈالر لگایا گیا ہے اور سال 2020ء تک یہ 100 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ پوٹن کے دورے میں قریب 7 ارب ڈالر مالیت کے 20 دو طرفہ تجارتی معاہدوں پر دستخط ہوسکتے ہیں۔    

بین الاقوامی سیاست سے متعلق کئی امور پر ماسکو اور بیجنگ کے مؤقف میں یکسانیت ہے۔ ان میں شام کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ملوث نہ کرنا اور اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کی رکنیت کی حمایت کے معاملات شامل ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM