1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روسی وزیرِ اعظم کا پارلیمان سے خطاب

روسی وزیرِ اعظم ولادمیر پوٹن نے آج بدھ کو روسی پارلیمان میں توانائی کے شعبے سے حاصل کی جانے والے رقم کی ملک میں سرمایہ کاری سے متعلق حکومت کی منصوبہ بندی کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔

default

روسی وزیرِ اعظم پوٹن

د وہزار بارہ کے صدارتی انتخابات سے قبل روسی پارلیمان کریملن سے پوٹن کا یہ آخری سالانہ خطاب ہے۔ ولادمیر پوٹن کو روس کا طاقتور ترین اور سب سے با اثر شخص تصوّر کیا جاتا ہے۔ دو ہزار آٹھ میں پوٹن نے صدر دمتری میدویدیف کو صدر بنوانے میں ایک اہم کردار ادا کیا تھا۔ اگلے برس مارچ میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے حوالے سے پوٹن نے عندیہ دیا ہے کہ وہ یا تو میدویدیف کو صدر منتخب کروانے میں کردار ادا کریں گے یا پھر وہ خود اس عہدے کے لیے انتخابات میں حصّہ لیں گے۔

قبل ازیں وزیرِ اعظم پوٹن کے ترجمان نے کہا تھا کہ پوٹن پارلیمان میں صدارتی انتخابات کے حوالے سے کوئی بات نہیں کریں گے۔

Disput Putin und Medwedew bei Treffen des Staatsrats im Kreml

صدر میدویدیف کو وزیرِ اعظم پوٹن کی حمایت حاصل ہے

کئی گھنٹوں پر محیط اس پارلیمانی اجلاس میں روسی وزیرِ اعظم پوٹن کے خطاب کا موضوع حکومت کی معاشی کامیابیاں اور اقتصادی ترّقی کے نئے امکانات ہے۔

روسی وزیرِ اعظم نے اسٹیٹ ڈوما سے خطاب میں کہا: ’میں سمجھتا ہوں کہ روس کی معاشی بہتری ہماری اجتماعی کامیابی ہے۔ یہ عالمی اقتصادی بحران کا وقت ہے۔ اس صورتِ حال میں روس اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں رہا اور وہ شدید بحرانوں اور خطرات سے خود کو بچانے میں کامیاب رہا‘۔

واضح رہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ روسی حکومت کے لیے فائدے کا سبب بنا ہے۔ اس برس تیل کی قیمتوں میں اٹھائیس فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پوٹن نے اس غیر متوقع منافع کے حوالے سے احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس چالیس بلین ڈالر کے منافع کی روسی حکومت کس طرح سرمایہ کاری کرے گی یہ روسی وزیرِ اعظم پارلیمان کو بتائیں گے۔

پوٹن کے وزیرِ خزانہ ایلیگزائی کُدرن نے اس مناسبت سے بتایا ہے کہ دس بلین ڈالرز کی رقم ریزرو فنڈز کی مد میں جائے گی جب کہ دو بلین ڈالرز کو پرائویٹ ایکیوٹی فنڈ میں استعمال کیا جائے گا۔

روسی وزیرِ اعظم نے امسال روس کی ممکنہ سالانہ اقتصادی ترقّی کی شرح ملکی جی ڈی پی کا چار اعشاریہ دو فیصد بتائی ہے جو کہ ان کے بقول حکومت کی توقعات کے مطابق ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM