1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روسی وزیراعظم کی انقرہ میں ترک وزیراعظم سے ملاقات

روسی وزرایر اعظم جمعرات کو انقرہ میں ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن سے ملاقات کرہے ہیں۔ ملاقات میں یورپ میں روسی گیس کی مارکیٹ کے تحفظ کو یقینی بنانا بتایا جاتا ہے۔

default

اطالوی، روسی اور تک وزرائے اعظم

روسی وزیراعظم اپنے ترک ہم منصب کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط بھی کریں گے، جس کے تحت روس ترک سرزمین کا استعمال کرتے ہوئے یورپ تک گیس پائپ لائن بچھائے گا۔ گیس کی یورپ تک فراہمی کے لئے ترک سرزمین کے استعمال کا فیصلہ دراصل مشرقی یورپی ملک یوکرائن کو بائی پاس کرنا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان معاہدے پر دستخطوں کی اس تقریب میں اطالوی وزیراعظم بھی شریک ہوں گے۔

رواں سال کے آغاز میں روس اور یوکرائن کے درمیان گیس کی قیمتوں کے تنازعے کی وجہ سے ایک طرف تو روس نے یورپ کے بیشتر ممالک تک روسی گیس کی سپلائی روک دی تھی، جب کہ دوسری طرف روس اور یوکرائن کے درمیان تعلقات بھی انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے۔

Gaspipeline Blauer Strom Russland Türkei Italien

روس یوکرین کے بجائے ترکی کے ذریعے یورپ تک گیس پہنچائے گا

یورپ کا الزام ہے کہ روس گیس کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ کے کئی اہم ممالک نے ترکی کے ذریعے خلیجی ریاستوں سے یورپ تک گیس کی منتقلی کے لئے گزشتہ ماہ نباکو معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ نباکو معاہدے کا مقصد یورپی منڈی میں روسی گیس کی بالادستی کو کم کرنا تھا۔ نباکو معاہدے کے تحت خلیجی ریاستوں سے قدرتی گیس کو عراق اور ترکی کے راستے یورپ تک لانا ہے۔

روس یوکرائن کی سرزمین استعمال کئے بغیر ترک سمندری حدود کے ذریعے یورپ تک گیس پہنچائے گا۔ اس سلسلے میں نو سو کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن پچھائی جائے گی۔

ماسکو میں روسی وزیراعظم کے اعلیٰ ترین مشیر برائے خارجہ پالیسی Yuri Ushakov نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں وزرائے اعظم ملاقات میں پائپ لائن منصوبے کے آغاز کی تاریخ بھی طے کریں گے۔

روس کے سرکاری ذرائع کے مطابق پائپ لائن بچھانے کے لئے سروے کا آغاز رواں ماہ سے جب کہ پائپ لائن بچھانے کا کام اگلے برس سے شروع ہو جائے گا۔ اس پراجیکٹ پر اندازاﹰ چودہ اعشاریہ چار تا اکیس اعشاریہ چھ بلین یورو لاگت آئے گی۔

روسی وزیر اعظم پوٹین اور ترک وزیراعظم ایردوآن کے درمیان پرامن مقاصد کے لئے جوہری توانائی کے حوالے سے بھی انتہائی اہم معاہدہ طے پانے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امجدعلی