1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روسی مدد، خانہ جنگی میں اسد کے لیے کامیابی کی امید

روس کی جانب سے شام میں فوجی مداخلت کے بعد اس بات کے امکانات بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں کہ شامی صدر بشارالاسد ملک میں جاری خانہ جنگی پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایک تجزیے کے مطابق دونوں اتحادیوں کی طرف سے طاقت کا مظاہرہ امریکی انتظامیہ کے لیے ایک طرح سے چیلنج ہے جس کی شام کے حوالے سے پالیسی کو خطے میں انتشار زدہ اور بے ربط سمجھا جاتا ہے۔

شامی صدر بشار الاسد کے دورہ ماسکو کے چند گھنٹوں بعد ہی روس کی طرف سے اس بات کی تصدیق کی گئی کہ روسی وزیرخارجہ سیرگئی لاوروف اور امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے جمعہ 23 اکتوبر کو ویانا میں ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں ان کے سعودی اور ترک ہم منصب بھی شامل ہوں گے اور اس میں شامی تنازعے کے حوالے سے بات چیت کی جائے گی۔

ایسوی ایٹڈ پریس کے مطابق کسی بھی طور دیکھا جائے، شامی صدر نے افراتفری کے شکار اپنے ملک سے نکل کر ماسکو کا دورہ کر کے یہ ثابت کیا ہےکہ وہ اپنی گرفتاری اور ملک میں اپنی حکومت پر قبضے کے خوف سے آزاد ہیں۔

ملک کے زیادہ تر حصے ان کے کنٹرول سے باہر ہیں جبکہ بقیہ حصوں میں بھی قتل وغارت گری جاری ہے مگر گزشتہ پانچ سالوں میں انہوں نے اپنی حکومت کو قائم رکھا ہے اور اسٹریٹیجک اہمیت کے علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ اے پی کے مطابق اس کی ایک وجہ اسد کی مستقل مزاجی اور تمام تر مشکل حالات کے باوجود پر اعتماد شخصیت کے علاوہ روس اور ایران جیسے طاقتور اتحادیوں کی طرف سے انہیں دستیاب مدد کا بھی عمل دخل ہے۔ ان دونوں ممالک نے اسد حکومت کی مدد کے لیے سیاسی، معاشی اور فوجی ذرائع کا بھرپور استعمال کیا۔ ان ممالک کی طرف سے اسد کی مسلسل مدد کے مقابلے میں امریکی ردعمل تسلسل سے عاری رہا ہے جس سے بشار الاسد کو ایک طرح سے یقین دہانی ہوئی کہ دیگر عرب آمروں کے برعکس ان کی حکومت کو گرنے نہیں دیا جائے گا اور نہ ہی انہیں ہلاک یا گرفتار کیا جائے گا۔

دورہ ماسکو کے موقع پر بشارالاسد نے پوٹن کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا: ’’شام کی علاقائی سالمیت اور اس کی آزادی کے لیے جمے رہنے پر ہم آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘‘

ماسکو حکومت نے گزشتہ ماہ سے شام میں اسد حکومت کے مخالفین کے خلاف فضائی حملوں کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے

ماسکو حکومت نے گزشتہ ماہ سے شام میں اسد حکومت کے مخالفین کے خلاف فضائی حملوں کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے

اے پی کے مطابق دونوں اتحادیوں ایران اور روس نے بتدریج اسد حکومت کی مدد میں اضافہ کیا اور خاص طور پر اس وقت جب لگ رہا تھا کہ شامی فورسز باغیوں کے ہاتھوں شکست کھا جائیں گی۔ ایران نے شامی فوج کے ہاتھ مضبوط کرنے اور ایران نواز ملیشیا خاص طور پر حزب اللہ کی فنڈنگ پر کئی ملین ڈالرز خرچ کیے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ایران نے اپنے فوجی مشیر بھی شام بھیجے اور سینکڑوں انقلابی گارڈز بھی جو حکومتی فورسز کے شانہ بشانہ لڑتے رہے ہیں۔

دوسری طرف روس نے شامی صدر کے حق میں اپنی ویٹو پاور کا کئی بار استعمال کیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جب بھی اسد حکومت کے خلاف کوئی قرارداد پیش ہوئی روس نے اسے ویٹو کر دیا۔ اس کے علاوہ ماسکو حکومت نے گزشتہ ماہ سے شام میں اسد حکومت کے مخالفین کے خلاف فضائی حملوں کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔ اس سے شامی فورسز کو موقع ملا ہے کہ وہ مختلف محاذوں پر پیشقدمی کر سکیں۔ اے پی کے مطابق شامی فورسز کوئی بڑی کامیابیاں تو حاصل نہیں کر سکیں مگر وہ تسلسل کے ساتھ ملک کے مختلف علاقوں میں آگے بڑھ رہی ہیں۔