1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روسی مداخلت کے بعد مغرب کے لیے شامی حکومت کو گرانا مشکل تر

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب جب کہ اسد حکومت کے اتحادی ملک روس نے شام میں فوجی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، مغربی ممالک کو شام میں حکومتی تبدیلی کے بجائے روس کو تنازعے کو مزید پیچیدہ کرنے سے روکنے پر زور دینا چاہیے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی جانب سے شائع کردہ ایک تجزیے کے مطابق امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کئی برس سے شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے خواہش مند ہیں، تاہم اس تمام عرصے میں ان کی جانب سے کوئی ایسی اسٹریٹیجی سامنے نہیں آئی جس سے معلوم ہوتا کہ وہ شام میں اقتدار کی تبدیلی آخر کس طرح چاہتے ہیں۔

اب جب کہ اس تنازعے میں روس بھی باقاعدہ طور پر شامل ہو گیا ہے تو مغرب کی شام میں اب تک جو بھی حکمتِ عملی تھی وہ مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

روس کئی دنوں سے شام پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جو وہ اپنے مطابق مشرق وسطیٰ کے اس ملک میں متحرک شدت پسند اسلامی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے خلاف کر رہا ہے۔ تاہم مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا کہنا ہے کہ ماسکو داعش پر نہیں بلکہ صدر اسد کے مخالف باغیوں پر بمباری کر رہا ہے۔

اے ایف پی نے اپنی رپورٹ میں مزید لکھا ہے کہ مغرب کی حکمت عملی کی ناکامی کا ایک منہ بولتا ثبوت یہ بھی ہے کہ امریکا نے 440 ملین یورو کی خطیر رقم لگا کر شام میں اسد حکومت کے مخالف نسبتاً کم شدت پسند باغیوں کی تربیت کی اور انہیں اسلحہ فراہم کیا، مگر جمعہ نو اکتوبر کے روز امریکا کو اپنا یہ عسکری پروگرام ختم کرنا پڑ گیا۔

رپورٹ میں مشرق وسطیٰ کے امور پر نظر رکھنے والے جولیان بارنس ڈیسی کا یہ تجزیاتی بیان بھی شامل ہے: ’’روس کا مشن واضح ہے۔ اس کا مقصد اسد حکومت کو بچانا ہے۔ دوسری جانب مغربی ممالک کی کوششیں غیر واضح ہیں۔ ایک طرف وہ اسد کو اقتدار سے ہٹانا چاہتے ہیں تو دوسری جانب شام کے ریاستی اداروں کو اسلامی عسکریت پسندوں کے خطرے سے بھی بچانا چاہتے ہیں۔‘‘

مبصرین کے مطابق روسی مداخلت نے جنگ زدہ شام میں مغرب کے آپشنز کم کر دیے ہیں اور اب اسد حکومت کا خاتمہ کم از کم مستقبل قریب میں ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ بارنس ڈیسی اس بارے میں کہتے ہیں: ’’مغربی ممالک شام کے معاملے پر روس سے جنگ نہیں چاہتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر روس کے ساتھ تصادم کا راستہ اختیار کیا گیا تو شام میں مزید تباہی ہوگی، ریاست مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گی اور شدت پسندی اور مہاجرین کی نقل مکانی میں اضافہ ہوگا۔‘‘

لیکن اس بات سے قطع نظر روس کی شام میں فوجی کارروائیوں سے داعش کے مضبوط ہونے کا امکان بھی ہے۔ پیرس میں قائم ’اسٹریٹیجک ریسرچ فاؤنڈیشن‘ سے وابستہ کیمیلی گرانڈ کا مغربی ممالک کو مشورہ ہے کہ انہیں روس سے مکالمہ کرنے کی ضرورت ہے، اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو یہ سمجھانے کی بھی کہ ماسکو کے فوجی اقدامات کتنے خطرناک ہیں او ان سے اجتناب کیوں ضروری ہے۔