1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

روسی مارکیٹ میں نجی جاسوسی کے جدید آلات

روس میں جاسوسی کے نئے اور جدید آلات مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ ان کے ذریعے نجی طور پر کی جانے والی ٹیلی فون کالز سنی اور ریکارڈ کی جا سکتی ہیں۔ اسی طرح چہرے کی شناخت کرنے والی ایک ایپ سے کسی بھی شخص کو تلاش کیا جاسکتا ہے۔

ماسکو کی آئی ٹی سکیورٹی کمپنی انِفو واچ کی خاتون مالک نتالیہ کاسپیرسکیا اِن دنوں شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ وہ حال ہی میں روسی مارکیٹ میں ایک ایسا نیا نظام لے کر آئی ہیں، جس کے تحت کمپنیاں اپنے کارکنوں کی طرف سے کی جانے والی ٹیلی فون کالز پکڑ سکتی ہیں اور ان کی گفتگو سن سکتی ہیں۔

روس کے باہر بہت سے ادارے اور کمپنیاں پہلے ہی ایسے سافٹ ویئر استعمال کر رہے ہیں، جن کے تحت نجی ٹیلی فون کالز سنی جا سکتی ہیں۔ ماضی میں انفو واچ کمپنی بھی جاسوسی کے ایسے آلات مارکیٹ میں لا چکی ہے، جس کے ذریعے ملازمین کی ای میلز، یو ایس بی اور پرنٹرز کی نگرانی کی جا سکتی ہے۔

تاہم اس مرتبہ انفو واچ پر اس قدر تنقید کی کیوں کی جا رہی ہے، اس بارے میں نتالیہ کاسپیرسکیا کہتی ہیں کہ اس ردعمل کی امید نہیں تھی ویسے بھی یہ کمیونیکیشن کا ایک نیا چینل ہے۔

روسی حکام اور عوامی کارکنوں کے مطابق یہ دریافت یا طریقہٴ رازداری کے قوانین کی صریحاﹰ خلاف ورزی ہے۔ دوسری جانب انفو واچ کی خاتون سربراہ کہتی ہیں کہ ان کی اس دریافت کا مقصد بڑے کاروباری اداروں کو سکیورٹی فراہم کرنا ہے تاکہ ان کی معلومات کسی دوسرے تک نہ پہنچیں کیوں کہ اداروں کی کامیابی کا انحصار ان کے کاروباری رازوں پر ہوتا ہے۔

روسی قوانین کے مطابق اگر کسی کی فون کال ریکارڈ کرنی ہو تو اس کے لیے عدالت سے اجازت لینا ضروری ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق خفیہ ایجنسیاں پہلے ہی شہریوں کی نگرانی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں اور اب نجی سیکٹر میں ایسی پیش رفت انتہائی قابل تشویش ہے۔

دوسری جانب حال ہی میں روس میں آنے والی نئی موبائل فون ایپ ’فائنڈ فیس‘ پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔ اس ایپ کے ذریعے سڑک یا بازار سے گزرتے ہوئے کسی بھی اجنبی کی تصویر لی جا سکتی ہے اور یہ ایپ سوشل میڈیا پر موجود اس مطلوبہ شخص کو ڈھونڈ نکالتی ہے۔ روس میں فیس بک کی متبادل وی کے نامی سوشل ویب سائٹ بہت مشہور ہے اور اس کے صارفین کی تعداد 350 ملین ہے۔

فروری میں لانچ کی گئی اس ایپ کو اب تک ایک ملین سے زائد افراد ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں۔ اس ایپ کے چھبیس سالہ بانی ایرتھوم کوکرینکو کا کہنا ہے کہ یہ ایپ سوشل میڈیا کے ڈیٹا بیس سے منسلک ہے اور چند ہی سیکنڈز میں تین سو ملین تصاویر میں سے مطلوبہ شخص کو تلاش کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب یہ ایپلی کیشن اپنے آغاز ہی میں متنازعہ ہو چکی ہے۔ کچھ صارفین نے ایک فحش ویب سائٹس سے تصاویر لیں اور ان خواتین کے حقیقی اکاؤنٹس تک پہنچ گئے اور انہیں دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔

دوسری جانب پولیس نے فائنڈ فیس کی مدد سے ان ملزمان کو بھی پکڑا ہے، جنہوں نے سینٹ پیٹرزبرگ میں ایک عمارت کو آگ لگانی کی کوشش کی تھی۔ سکیورٹی کیمرے کی فوٹیج کے ذریعے ان ملزمان کی تصاویر بنائی گئیں اور انہیں فائنڈ فیس کے ذریعے تلاش کر لیا گیا۔

روسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ایپ قانون کی خلاف وزری نہیں ہے کیوں کہ یہ سوشل میڈیا پر موجود پہلے ہی سے موجود تصاویر کو استعمال کرتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس ایپ کا حتمی نتیجہ کون سا نیا رخ متعین کرے گا۔