1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

روسی فوج کے ترجمان کی ڈی ڈبلیو سے خصوصی بات چیت

روسی فوج کے ترجمان میجر جنرل ایگور کوناشینکوف نے ڈی ڈبلیو سے خصوصی بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ روسی فوج نے شامی صدر بشارالاسد کی عسکری کامیابیوں میں نتیجہ خیز کردار ادا کیا ہے۔

ڈی ڈبلیو نے روسی فوج کے ترجمان میجر جنرل ایگور کوناشینکوف سے پوچھا کے چند ہفتے قبل تک روسی جنگی طیارے شامی فضائی حدود میں بمباری کرتے دکھائی دے رہے تھے تاہم اب یہ عمل رک گیا ہے۔ اس کے باوجود روسی فوجی شام میں موجود ہیں وہ وہاں کیا کر رہے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا،’’عسکری شعبے کے روسی ماہرین شام میں فوجی کارروائیوں میں مشاورت فراہم کر رہے ہیں جیسا کہ پالمیرا کا آپریشن تھا۔ وہ شامی ماہرین کو طریقہ کار اور اسلحہ استعمال کرنے کے بارے میں سمجھاتے ہیں۔ اس طرح یقینی طور پر ہم اسلامک اسٹیٹ کے خلاف آپریشن کو وسیع کرنے میں شامل ہیں۔

ڈی ڈبلیو: روسی جنگی طیارے اچانک شامی فضاؤں سے غائب ہوئے بالکل اسی طرح جیسے وہ نمودار ہوئے تھے۔ اس کے باوجود شام میں دہشت گرد ابھی بھی موجود ہیں۔ کیا روس شام کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر سکا؟

ایگور کوناشینکوف: نہیں میں ایسا نہیں ہے۔ روسی جنگی طیارے ابھی بھی ایک شامی چھاؤنی میں موجود ہیں۔ اتنی تعداد میں جتنے ہمیں چاہییں۔ یہ آج بھی کارروائیاں کرتے ہیں اور ان کا ہدف دہشت گردوں کے ٹھکانے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ روسی ماہرین انسانی بنیادوں پر امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اس دوران یہ لوگ بارودی سرنگیں صاف کرنے اور دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنانے میں مصروف ہیں۔

سوال: آپ لوگ دیگر ممالک کے ساتھ کس طرح سے تعاون کر رہے ہیں؟ اور خاص طور پر امریکا کے ساتھ؟

جواب: ہم متحارب گروپوں میں اعتماد سازی اور امن معاہدوں پر عمل درآمد کروانے کے معاملے میں بہت سرگرم ہیں۔ اس کے علاوہ ہم نے شام میں ایک مبصر مرکز بھی قائم کیا ہے بالکل اسی طرح جیسا امریکا نے عمان میں کیا ہے۔ ہمارا روزانہ کی بنیادوں پر امریکیوں سے رابطہ ہوتا ہے۔ اس دوران ہم اپنے امریکی ساتھیوں کو فائر بندی معاہدے کی ہر خلاف ورزی کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ بھی ہمارے ساتھ تمام تر معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ تاہم آج کل حلب کی صورتحال انتہائی نازک ہے کیونکہ وہاں بھاری اسلحے سے لیس ایک ہزار جنگجو موجود ہیں۔

ڈی ڈبلیو: تیرہ اپریل کو شام میں پارلیمانی انتخابات ہو رہے ہیں، جو انتہائی غیر مناسب وقت ہے۔ کیونکہ نہ تو وہاں انتخابی مہم چلائی جا رہی ہے اور نہ ہی وہاں امن قائم ہے۔ آپ کے خیال میں انتخابات کیسے ہوں گے؟

ایگور کوناشینکوف: یہ کہنا انتہائی مشکل ہے کہ کیا شام انتخابات کے لیے تیار ہے یا نہیں۔ یورپی معیارات کی بات کی جائے تو شام میں حالات سازگار نہیں ہیں۔ میں نے شام کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ہے اور اس دوران مجھے پتا چلا ہے کہ شام کتنا منفرد ہے۔ لوگوں کی سوچ اور معیار زندگی ایک دوسرے سے کتنا مختلف ہے۔ میرے خیال میں ان لوگوں کو یہ موقع دینا چاہیے کہ وہ اپنے معاملات اپنے ہاتھ میں لیں۔ ہمیں اس سلسلے میں راہ کی رکاوٹ بننے کی بجائے ان کا ساتھ دینا چاہیے۔