1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روسی فوجی پاکستانی قبائلی علاقوں میں

پاکستانی حکام نے بتایا ہے کہ روسی فوج کے ایک وفد نے ملک کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کا دورہ کیا ہے۔ اسے روسی فوج کی جانب ایک غیر معمولی دورہ قرار دیا جا رہا ہے۔

 خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق پاکستانی فوج نے بتایا کہ شمالی وزیرستان کے دورے کے دوران روسی فوجی وفد نے اس علاقے میں پاکستانی فوج کی ان کارروائیوں کا سراہا ہے، جو اس نے دہشت گردی کے خلاف کی ہیں۔ اس کے علاوہ یہی روسی وفد جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا بھی گیا۔ اب سے کچھ عرصہ قبل تک شمالی وزیرستان کا شمار دہشت گردوں کی آماجگاہ کے طور پر ہوتا تھا۔

Russische Soldaten in Pakistan Militärübung

ستمبر 2016ء میں روس اور پاکستان کی افواج نے مشترکہ مشقوں میں حصہ لیا تھا

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق روسی وفد کی قیادت نائب چیف آف جنرل اسٹاف کرنل جنرل اسراکوف سیرگئی کر رہے تھے، ’’اس وفد کو پاکستان فوج کی ان کوششوں کے بارے میں بتایا گیا، جو اس نے  قبائلی علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے کی ہیں۔‘‘ آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ روسی فوج کے افسران کو دی گئی بریفنگ میں پاک افغان سرحد کی انتظام صورتحال بھی واضح کی گئی۔ اس کے علاوہ انہیں علاقے میں شروع کیے جانے والے فلاحی و اقتصادی منصوبوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔

روس ایک طویل عرصے سے پاکستان کے حریف ملک بھارت کا دوست رہا ہے جبکہ روایتی طور پر پاکستان کا جھکاؤ ہمیشہ سے ہی امریکا کی جانب رہا ہے۔ تاہم حالیہ کچھ عرصے میں اسلام آباد نے  ماسکو سے قربت بڑھائی ہے۔ گزشتہ دنوں کے دوران پاکستان اور روسی فوج کے مابین تعاون میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس کا ایک ثبوت ستمبر 2016ء میں دونوں ممالک کی افواج کی مشترکہ مشقیں ہیں۔