1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روسی فوجی طیارہ تباہ، ’بانوے افراد ہلاک‘

روسی وزارت دفاع کے مطابق پچیس دسمبر بروز اتوار بحیرہ اسود میں گر کر تباہ ہونے والے فوجی طیارے میں سوار کسی شخص کے زندہ بچنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس طیارے میں بانوے افراد سوار تھے۔

خبر رساں ادارے اے پی نے روسی وزارت دفاع کے حوالے سے بتایا ہے کہ تباہ ہونے والے فوجی طیارے کا ملبہ مل گیا ہے۔ ہزاروں امدادی کارکن بحیرہ اسود میں سرچ کے کام میں مصروف ہیں لیکن ایسا کوئی نشان نہیں ملا کہ اس طیارے میں سوار کوئی مسافر زندہ بچ گيا ہو۔

حکام نے بتایا ہے کہ سرچ آپریشن کے دوران بحیرہ اسود سے دس لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں جبکہ بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں۔ بحیرہ اسود میں اس جہاز کا ملبہ ایک اعشاریہ پانچ کلو میٹر دور تک پھیلا ملا ہے۔

روسی حکام کے مطابق جائے حادثہ پر تین ہزار سے زائد امدادی کارکن تعینات کر دیے گئے ہیں، جن میں ماہر غوطہ خور بھی شامل ہیں۔ متعدد ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ستائیس تیز رفتار کشتياں بھی سرچ کے کاموں میں مصروف ہیں۔ روسی وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ لاشوں کی تلاش کے لیے بغیر پائلٹ کے ڈرون طیارے بھی گشت کر رہے ہیں تاکہ اگر کوئی نشان ملے تو فوری طور پر امدادی کارکن وہاں پہنچ سکیں۔

اس کے علاوہ مزید ماہر غوطہ خوروں کو بھی طلب کیا گیا ہے جبکہ طاقتور اسپاٹ لائٹس کا انتظام بھی کیا جا چکا ہے تاکہ رات کے اندھیرے میں بھی سرچ آپریشن متاثر نہ ہو۔

تباہ ہونے والے فوجی طیارے میں معروف روسی بینڈ کا ایک ساٹھ رکنی ایک طائفہ بھی شامل تھا۔ یہ طیارہ اتوار کے دن ماسکو سے شامی شہر الاذقیہ کے لیے روانہ ہوا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ فوجی ایئر کرافٹ سوچی کے آڈلر ہوائی اڈے پر کچھ دیر کے لیے رکا، جہاں سے طیارے میں فیول  بھرا گیا۔

سوچی سے پرواز کے کچھ منٹ بعد ہی یہ طیارہ بحیرہ اسود میں گر کر تباہ ہو گیا۔ حکام کے مطابق اس طیارے میں سوار مشہور روسی بینڈ کے ارکان نے کرسمس کے دن الاذقیہ میں تعینات روسی فوجیوں کے سامنے ایک پرفارمنس دینی تھی۔ اس طیارے کی تباہی کی وجوہات ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہیں۔

 

ایک روسی ماہر نے دہشت گردی کا شبہ ظاہر کیا ہے لیکن کریملن نے اسے رد کر دیا ہے۔ اس حادثے کے بعد روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیر کے دن ملک بھر میں قومی سوگ منایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس حادثے کی وجوہات معلوم کی جائیں گی اور متاثرین کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔

ادھر شامی صدر بشار الاسد نے اپنے روسی ہم منصب پوٹن سے ٹیلی فون پر گفتگو میں اس حادثے پر دلی افسوس کا اظہار کیا ہے۔

حادثے کا شکار ہونے والے روسی فوج کے ’ٹی یو 154‘ ساخت کے اس طیارے میں چوراسی مسافر اور عملے کے آٹھ ارکان سوار تھے۔ اس جہاز میں نو روسی صحافی بھی سوار تھے۔ بتایا گیا ہے کہ سوچی سے پرواز کے دو منٹ بعد ہی اس طیارے کا کنٹرول روم سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔