1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روسی فوجیوں کا مقدمہ سننے والے یوکرائنی جج کے دفتر پر حملہ

نا معلوم حملہ آوروں نے یوکرائن کے ایک جج کے دفتر پر پٹرول بم سے حملہ کرتے ہوئے اسے نذر آتش کر دیا۔ یہ جج ان دو مشتبہ روسی فوجیوں کے مقدمے کی سماعت کر رہے ہیں، جنہیں مشرقی یوکرائن سے گرفتار کیا گیا تھا۔

کییف پولیس نے بتایا کہ جج مائکولا دیدکئز کے دفتر پر نصف شب کے قریب حملہ کیا گیا۔ اس بیان کے مطابق،’’ نوجوانوں کا ایک گروپ دیوار کود کر اس عمارت کے احاطے میں داخل ہوا، جس کے تیسرے فلور پر جج کا دفتر واقع ہے۔ اور انہوں نے آتشگیر مادے سے بھری ہوئی بوتلیں جج کے دفتر پر پھینکیں۔‘‘ اس دوران اس دفتر کو کافی حد تک نقصان پہنچا۔

فوجی وکیل استغاثہ اناتولی ماتیوس کے مطابق اس حملے کا ہدف یقینی طور پر اس مقدمے سے منسلک دستاویزات تھے، ’’حملہ آور ان کاغذات کو جلانے آئے تھے۔ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس مقدمے کی وجہ سے خفیہ اور المناک واقعات رونما ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔‘‘

ابھی دو ہفتے قبل ہی کییف کی پولیس کو ایک وکیل کی لاش ملی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ وکیل انہی دو روسی قیدیوں میں سے ایک کا دفاع کر رہے تھے، جنہیں مئی 2015ء میں لوہانسک سے حراست میں لیا گیا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ وکیل کو بہت زیادہ تشدد کے بعد موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ اس قتل میں ملوث ہونے کے شبے میں دو افراد کو حراست میں لیا گیا تھا اور ان میں سے ایک اعتراف کرتے ہوئے حکام کو وکیل کی لاش تک پہنچایا تھا۔

یہ واقعات روس اور یوکرائن کے مابین پائے جانے والے تنازعے سے پیدا ہونے والے جذبات کے عکاس ہیں۔ ماسکو حکومت کا کہنا ہے کہ سارجنٹ الگزانڈروف اور کیپٹن ینگنیو یریفوئیف کو اسی وقت فوج سے نکال دیا گیا تھا، جب وہ سرحد پار کرتے ہوئے یوکرائن کے جنگی علاقے میں داخل ہوئے تھے۔ تاہم غیر ملکی مبصرین اور صحافیوں کا خیال اس سے بالکل مختلف ہے۔ ان کا موقف ہے کہ گرفتاری کے وقت یہ دونوں روس کی فوجی خفیہ ایجنسی ’GRU‘ کے لیے کام کر رہے تھے۔