1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روسی عسکری مداخلت سے شام کی صورتحال پیچیدہ ہوتی ہوئی

نیٹو نے کہا ہے کہ شام میں روسی عسکری مداخلت سے تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری طرف امریکا کے مطابق شام میں نو فلائی زون قائم کرنے پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

NATO berät über Lage der Türkei

نیٹو کے سربراہ ژینس اسٹولٹن برگ کے مطابق شام کی صورتحال ’پریشان کن حد تک تناؤ‘ کا باعث بن رہی ہے

روسی جنگی طیاروں نے شام میں اپنی عسکری کارروائی کا دائرہ ڈرامائی طور پر وسیع کر دیا ہے۔ اس تناظر میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سربراہ ژینس اسٹولٹن برگ نے جمعرات کے دن کہا کہ شام کی صورتحال ’پریشان کن حد تک تناؤ‘ کا باعث بن رہی ہے۔

برسلز میں اس عسکری اتحاد کی ایک اہم میٹنگ میں شرکت سے قبل اسٹولٹن برگ کا کہنا تھا، ’’روسی عسکری مداخلت کے باعث شام میں صورتحال مزید تناؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ اس نتیجے میں وہاں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے بعد ہم اس اتحاد کی سکیورٹی کے حوالے سے کوئی فیصلہ کریں گے۔‘‘

اسٹولٹن برگ نے روسی جنگی طیاروں کی طرف سے ترک فضائی سرحدوں کی خلاف ورزی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ شام کے موجودہ بحران میں نیٹو اپنے تمام رکن ممالک کی مکمل سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہر مکن قدم اٹھائے گا۔ ترکی بھی مغربی عسکری اتحاد نیٹو کا رکن ملک ہے۔

روس نے گزشتہ بدھ سے شام میں عسکری کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ وہ وہاں صرف انتہا پسند گروپ داعش اور دیگر جہادی گروہوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ تاہم ایسی خبریں بھی موصول ہوئی ہیں کہ روسی جنگی طیارے کچھ ایسے باغیوں کو بھی نشانہ بنا چکے ہیں، جو نہ صرف بشار الاسد بلکہ جہادیوں کے خلاف بھی سرگرم ہیں۔ روسی فضائیہ کی بمباری کی زد میں ایسے باغی بھی آئے ہیں، جو امریکی عسکری ماہرین سے خصوصی تربیت حاصل کرنے کے بعد شام میں لڑنے گئے ہیں۔

نو فلائی زون کے قیام پر فیصلہ نہیں ہوا، واشنگٹن

اس صورتحال میں امریکا پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ روس سے مطالبہ کرے کہ اس کی فوجیں صرف جہادیوں کے خلاف ہی کارروائی پر اکتفا کریں۔ ایسی خبریں بھی موصول ہوئیں کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری شام میں نو فلائی زون کے قیام کے حوالے سے سفارتکاری کر رہے ہیں۔ تاہم وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ اس حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ جان کیری نے شام میں نو فلائی زون قائم کرنے کا منصوبہ پیش کیا تھا تاہم امریکی صدر باراک اوباما نے اسے مسترد کر دیا ہے۔ اس نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی صدر نے کہا ہے کہ شام میں قیام امن کے لیے ایسا سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہیے، جس میں شامی صدر بشار الاسد کے لیے کوئی کردار نہ ہو۔

Syrien - Russische Soldaten unterstützen Assad

روس نے شام میں اپنی عسکری کارروائی کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے

امریکی صدر اوباما کا اصرار ہے کہ شام میں قیام امن کے لیے بشار الاسد کا اقتدار سے الگ ہونا ناگزیر ہے جبکہ روس کا کہنا ہے کہ شام میں فعال جہادیوں سے نمٹنے کے لیے اسد کے بغیر مؤثر کارروائی ناممکن ہے۔ اسی لیے ماسکو حکومت نہ صرف شامی افواج کو اسلحہ فراہم کر رہی ہے بلکہ شامی افواج کو تربیت بھی دے رہی ہے۔

مبصرین کے مطابق اب شام میں براہ راست روسی مداخلت سے یہ تنازعہ مزید پیچیدہ اور طویل ہو جائے گا۔ گزشتہ چار برس سے جاری اس بحران کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے مطابق دو لاکھ چالیس ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔