1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روسی طیارہ مار گرانے کا واقعہ غیر معمولی کشیدگی کا سبب

کل منگل کے روز ترک فضائیہ نے ملکی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر ایک روسی جنگی طیارہ مار گرایا تھا۔ اِس اقدام کے بعد روس نے سخت نتائج سے خبر دار کیا ہے۔

default

ترک فضائیہ کا نشانہ بننے والا روسی طیارہ ترکمان کی پہاڑیوں پر گرتا ہوا

روسی طیارے کو مار گرانے کے بعد ایک طرف روسی صدر نے اِس اقدام کے سنگین نتائج کے لیے ترکی کو خبردار کیا ہے تو دوسری جانب مغربی دفاعی اتحاد نے ترکی کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے۔ اِسی دوران روسی لڑاکا طیارہ مار گرائے جانے کے کچھ گھنٹوں بعد امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ صدر اوباما نے ترک موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کو اپنی فضائی حدود کے دفاع کا حق حاصل ہے۔ تاہم دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس واقعے کی وجہ سے روس کے ساتھ کشیدگی سے گریز کرنا اہم ہے۔

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ نے ترکی کی جانب سے فضائی حدود کے دفاع کے لیے اٹھائے گئے اس اقدام کی حمایت کی ہے، تاہم کہا ہے کہ کشیدگی میں کمی لانا از حد ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سفارتی عمل اور رابطوں کے ذریعے کشیدگی میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ مبصرین نے اِس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ روسی فضائیہ اور اتحادیوں کے درمیان فضائی جھڑپیں ہو سکتی ہیں۔

Brüssel Jens Stoltenberg NATO Generalsekretär

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ

ماسکو حکومت نے ترکی کے ہاتھوں روسی لڑاکا طیارے کی تباہی پر کڑی تنقید کی ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا ہے کہ انقرہ حکومت نے روس کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے اور اس کے سخت نتائج مرتب ہوں گے۔ پوٹن نے کہا کہ دہشت گردوں کی مدد کرنے کے لیے ترکی نے روسی طیارہ تباہ کیا اور دونوں ملکوں کے تعلقات پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ روسی وزیراعظم میدویدیف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ روسی طیارے کے گرائے جانے کے بعد روس اور ترکی کے مشترکہ پراجیکٹس کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

ترکی کا موقف ہے کہ اس طیارے کو دس مرتبہ وارننگ دی گئی، تاہم روسی طیارہ ترک فضائی حدود کی خلاف ورزی سے باز نہ آیا۔ روسی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ روسی بمبار نے فضائی حدود کی خلاف ورزی نہیں کی تھی اور اِس کا ثبوت موجود ہے۔ اقوام متحدہ میں ترک سفیر حالیت چیوک نے سکیورٹی کونسل کو خط تحریر کرتے ہوئے بیان کیا کہ دو روسی طیارے ترک فضائی حدود میں ڈیڑھ کلو میٹر سے زائد گھس آئے تھے اور وہ سترہ سیکنڈ تک ترک فضائی حدود میں موجود رہے تھے۔

دوسری جانب روسی فوج کے ترجمان جنرل سیرگئی روڈسکی نے بتایا کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ روسی بمبار طیاروں کی حفاظت کے لیے جنگی فائٹرز بھی روانہ کیے جائیں گے اور الاذقیہ کے قریب ماسکووا میزائل نصب کیے جا رہے ہیں۔ روسی جنرل کے مطابق خطرے کا سبب بننے والے تمام اہداف کو تباہ کر دیا جائے گا۔ روس کے حلیف شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت نے بھی روسی طیارے کو گرانے کی مذمت کی ہے۔