1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روسی صدر کا جارجیا پر حملے روک دینے کا حکم

جنوبی اوسیتیا کی علیحدگی پسندی کا نام پر قفقاذ کے علاقے میں روس اور جارجیا کے مابین جنگ میں روسی صدر دیمیتری میدویدیف نے منگل کے روز روسی فوج اور فضائیہ کو جارجیا کے خلاف اپنی تمام جنگی کارروائیاں روک دینے کا حکم دے دیا۔

default

دیمیتری میدویدیف

دیمیتری میدویدیف نے روسی فوج اور جنگی طیاروں کو اپنی کارروائیاں روکنے کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی اوسیتیا میں روسی امن دستوں اور وہاں کی شہری آبادی کے تحفظ کو دوبارہ یقینی بنالیا گیا ہے۔ اس منزل کے حصول کے بعد اب جارجیا پرروسی حملے بند کردیئے جائیں۔

دیمیتری میدویدیف نے روسی وزیر دفاع اناطولی سَیرجُوکوف کے ساتھ ٹیلی ویژن پر براہ راست دکھائی گئی اپنی ایک ملاقات میں کہاکہ وہ فوری طور پر تمام حملے بند کر دینے کا حکم دیتے ہیں کیونکہ ماسکو نے جارجیا کو سزا دے دی ہے۔ تاہم اگر روسی دستوں پر دوبارہ حملے کئے گئے تو ماسکو پھر سے اپنا دفاع کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔

دریں اثناء یورپی یونین کی کونسل کے موجودہ سربراہ اور فرانس کے صدر نکولا سارکوزی قفقاذ کے علاقے میں فریقین کے مابین حتمی جنگ بندی اور مذاکرات کے آغاز میں مدد دینے کے لئے آج ماسکو میں تھے جہاں انہوں نے صدر میدویدیف کے ساتھ ملاقات کی۔ بعد ازاں انہیں طبلیسی روانہ ہونا تھا جہاں پروگرام کے مطابق انہیں جارجیا کے صدر میخائیل ساکاشویلی کے ساتھ بات چیت کرنا تھی۔

Georgien EU Michail Saakaschwili und Bernard Kouchner in Tiflis

نکولا سارکوزی سے قبل جارجیا کا دورہ کرنے والے فرانسیسی وزیر خارجہ بیرنارڈ کشنر (دائیں) طبلیسی میں صدر ساکاشویلی کے ہمراہ

نکولا سارکوزی کے ذریعے یورپی یونین ماسکو کو یہ پیغام دینا چاہتی تھی کہ روس کو میخائیل ساکاشویلی کی قیادت میں جارجیا کے ساتھ اپنے تمام اختلافات مکالمت کے ذریعے حل کرنا چاہیئں۔ لیکن یہی کام بہت مشکل ہےکیونکہ کریملن کی قیادت اب طبلیسی میں میخائیل ساکاشویلی پر کوئی اعتماد نہیں کرتی۔

اس تناظر میں روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف نے فن لینڈ کے وزیر خارجہ کےساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے منگل کے روز ماسکو میں کہا کہ وہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ جارجیا کے بارے میں روس کی آئندہ سیاست مکمل طور پر تبدیل ہو جائے گی کیونکہ اب روس کو جارجیا کی ریاستی قیادت پر کوئی اعتماد نہیں رہا۔

اس وقت جاری تمام ثالثی کوششوں کے باوجود قفقاذ کے علاقے میں موجودہ صورت حال یہ ہے کہ جنوبی اوسیتیا کے علیحدگی پسند خطے کے رہنما نے اب یہ مطالبہ بھی کردیا ہے کہ شمالی اورجنوبی اوسیتیا کو ایک دوسرے میں ضم ہوجانا چاہیئے۔ دوسری طرف جارجیا ہی کے ایک اور علیحدگی پسند علاقے ابخازیہ میں مقامی دستوں نے، جنہیں روس کی پشت پناہی حاصل ہے، جارجیا کی پوزیشنوں پر حملے شروع کردیئے ہیں۔

اسی دوران طبلیسی میں منگل ہی کے روز ہزاروں شہریوں نےصدر میخائیل ساکاشویلی کےحق میں مظاہرےبھی کئے جن سے خطاب کرتے ہوئے جارجیا کے صدر نے اعلان کیا کہ روس کی سرپرستی میں کالعدم سوویت یونین میں شامل جمہوریاؤں کی جو تنظیم آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ کے نام سے قائم ہے، جارجیا جلد ہی اُس سے نکل جائے گا۔

DW.COM