1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روسی صدر آج جرمنی پہنچ رہے ہیں

جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور روسی صدر دیمتری میدودیف کے درمیان آج کی ملاقات دو مرحلوں میں ہوگی۔ دونوں رہنما پہلے ون ٹو ون ملاقات کریں گے جبکہ بعدازاں دونوں حکومتوں کے اعلیٰ عہدے دار بھی ان کے ساتھ شریک ہوں گے۔

default

روسی صدر دیمتری میدودیف اور جرمن چانسلر انگیلامیرکل

اس دوران دونوں ریاستوں کے مابین متعدد معاہدوں پر دستخط کئے جائیں جبکہ مشترکہ دستاویزات بھی جاری کی جائیں۔ ان میں توانائی کے شعبے میں تعاون پر ایک مشترکہ اعلان اور روسی ریلوے اور جرمن کمپنی سیمینز کے درمیان ریلوے انجنوں کی تیاری کے ایک مشترکہ منصوبے کا معاہدہ قابل ذکر ہے۔

Bildgalerie Jahresrückblick 2008 Oktober Deutschland

مالیاتی بحران نے دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون کی اہمیت اور بھی واضح کر دی ہے،جرمن صوبے باویریا کے وزیراعلیٰ ہورسٹ زیہوفر

جرمن اور روسی حکام دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کو انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔ جرمن صوبے باویریا کے وزیراعظم ہورسٹ زیہوفر کہتے ہیں کہ مستقبل میں بھی دونوں ملکوں کے درمیان جاری تعاون کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں روس اور جرمنی کے اچھے تعلقات نے دونوں جانب سے اعتماد کی بنیاد رکھ دی ہے۔

میرکل اور میدودیف کی ملاقات کے موقع پر روس کے سرکاری بینک VEB اور جرمنی کے Kreditanstalt fuer Wiederaufbau کے درمیان 500 ملین ڈالر کے قرضوں کا ایک معاہدہ بھی طے پائے گا جبکہ ملاقات کے موقع پر شمالی کوریا اور ایران کے جوہری تنازعوں اور رواں برس پٹس بُرگ میں ہونے والے G8 کے اجلاس پر بھی بات چیت ہو سکتی ہے۔

Petersburger Dialog 2009

میرکل اور میدودیف میونخ ہی میں جاری روسی اور جرمن سول سوسائٹی گروپوں کے اجلاس پیٹرزبرگ ڈائیلاگ کے اختتامی سیشن میں بھی شریک ہوں گے

گزشتہ روز ماسکو میں صحافیوں سے گفتگو میں روسی خارجہ پالیسی کے ایک عہدے دار سیرگئی پرکودکونے کہا تھا کہ چانسلر میرکل اور صدر میدودیدف کے درمیان ملاقات کا مقصد دونوں ملکوں کی باہمی تجارت کو فروغ دینا ہے اور مالیاتی بحران کے اس دَور میں دونوں ہی ملکوں کے لئے یہ بات اہم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان رہنماؤں کے درمیان جمعرات کی ملاقات کے موقع پر زیرسمندر گیس پائپ لائن کے مشترکہ منصوبے نارڈ اسٹریم پر بھی بات چیت ہوگی۔ روس اور جرمنی اس منصوبے کے حق میں ہیں تاہم اسے آگے بڑھانے کے لئے انہیں ڈنمارک اور سویڈن کی منظوری درکار ہے۔

اِس دورے کے دوران روسی صدر جرمنی میں قائم جنرل موٹرز کے کار ساز ادار اوپل کی خریداری کی مفاہمت میں روسی ادارے کی مدد کے وعدے کی تجدید کر سکتے ہیں۔ اِسی سال مئی کے اوآخر میں جرمن حکومت نے کینیڈا کے کارساز ادارے میگنا انٹرنیشنل کی جانب سے اوپل کے حصص کو خریدنے کی مفاہمت کو حتمی شکل دی تھی۔ میگنا انٹرنیشنل کو اوپل کی خریداری میں روس کے سرکاری سپربینک روسیا اور روس کی دوسری بڑی کارساز کمپنی OAO GAZ Group کا تعاون حاصل ہے۔

تاہم جنرل موٹرز کو برسلز میں قائم RHJ انٹرنیشنل اور چین کی بینجنگ آٹوموٹیو انڈسٹری کمپنی کی جانب سے اظہار دلچسپی کی درخواستیں ملنے پر میگنا کی کوششیں متاثر ہوئیں۔