1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روسی شہر ایکترین برگ میں چار ابھرتی اقتصادی قوتوں کا سربراہ اجلاس

روس کے صنعتی شہرایکترن برگ میں منگل کے روز دو اہم کانفرنسز ہورہی ہیں۔ ایک ایس سی او یعنی شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کی اور دوسری BRIC یعنی برازیل، روس، انڈیا اور چین کے سربراہان مملکت کی۔

default

برازیل، روس، چین اور بھارت کے صدور اور وزرائے اعظم

روس میں ہونے والی یہ دونوں ہی کانفرنسز سیاسی اوراقتصادی صورت حال کے لحاظ سے کافی اہمیت کی حامل ہیں۔

یورال پہاڑی سلسلے کے مشرقی کنارے پر واقع، جنگلوں اور چھوٹی چھوٹی جھیلوں سے گھرا ہوا خوبصورت روسی شہر ایکترن برگ تقریبا ایک درجن سربراہان مملکت کی میزبانی کررہا ہے۔ ایشیا اور یورپ کی سرحد پر واقع یہ شہر روسی دارالحکومت ماسکو سے تقریبا600کلومیٹر مشرق میں آئزت ندی کے کنارے واقع ہے۔ بھاری مشنری کے لئے مشہور یہ صنعتی شہر روس کا پانچواں سب سے بڑا شہر ہے۔ اقوام متحدہ سے باہر یہ غالبا یہ پہلا موقع ہے جب ایک ہی شہر میں ایک ہی دن دو مختلف بین الاقوامی تنظیموں کی اہم کانفرنیس ہورہی ہے۔

Premierminister Manmohan Singh

بھارتی وزیر اعظم من مو ہن سنگھ

شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن یعنی ایس سی او کی کانفرنس میں بھارت اور پاکستان کے رہنماء بھی مشاہد کی حیثیت سے شرکت کررہے ہیں۔ کانفرنس کی خاص بات یہ ہے کہ گذشتہ سال نومبر میں بھارت کے اقتصادی دارالحکومت ممبئی پر ہوئے دہشت گردانہ حملوں کے بعد بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ اور صدرپاکستان آصف علی زرداری پہلی مرتبہ بند کمرے میں آمنے سامنے ہوں گے۔

گوکہ ابھی تک سرکاری طور پر باہمی مذاکرات کے پروگرام کا اعلان نہیں کیا گیا ہے تاہم سمجھا جاتا ہے کہ دونوں ر ہنماء بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت کو دوبارہ شروع کرنے کی سمت پیش رفت کا اعلان کر کرسکتے ہیں۔

Ankunft des pakistanischen Präsidenten Asif Ali Zardari beim SCO-Treffen 2009

ایکترین برگ میں پاکستانی صدر کی آمد

ایس سی اس تنظیم کا قیام 15 جون 2001کو شنگھائی میں عمل میں آیا تھا۔ اس کا مقصد وسط ایشیائی ملکوں میں انتہاپسندی کے خلاف مشترکہ اقدامات کرنا ہے۔ بھارت پہلی مرتبہ چوٹی کی سطح پر اس کی میٹنگ میں حصہ لے رہا ہے۔ اب تک وہ اس وجہ سے اس کی میٹنگوں میں شرکت کرنے سے انکارکرتا رہا تھا کیوں کہ وہ اسے اپنی عالمی حیثیت سے کمتر سمجھتا تھا۔ حتی کہ وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے گذشتہ سال پارلیمان میں اس حوالے سے کہا تھا کہ وہ صرف کافی پینے کے لئے کسی کانفرنس میں نہیں جانا چاہتے۔

بھارتی خارجہ سیکریٹری شیو شنکر مینن کا کہنا ہے کہ روسی صدر کے اصرارپر وزیر اعظم ڈاکٹر سنگھ اس مرتبہ اس کی میٹنگ میں شرکت کررہے ہیں اور مشاہد کے درجے کے باوجود بھارت کو بند کمرے میں ہونے والی میٹنگ اور اس کاا علامیہ تیار کرنے میں شامل کیا جائے گا۔ پاکستان پہلے سے ہی مشاہد کی حیثیت سے ایس سی او کی میٹنگوں میں شرکت کرتا رہا ہے۔

تاہم پوری دنیا کی نگاہ یہاں ہونے والی BRIC کی میٹنگ پر ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ نیا گروپ صنعتی طور پر ترقی یافتہ ملکوں کے گروپ جی سیون کے مقابلے میں ابھر سکتا ہے۔جب ڈوئچے ویلے نے نئی دہلی میں بھارتی تھنک ٹینک آبزرو ریسرچ فاونڈیشن میں وسط ایشیائی امور کے ماہر سمیر سرن سے پوچھا کہ BRIC کی کیا اہمیت ہے تو انہوں نے کہا یہ نیا گروپ توانائی، فائنانس، ڈیولپمنٹ اور غربت جیسے امور پر ترقی پزیر ملک کی حیثیت سے اپنی رائے دے سکیں گے اور عالمی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کریں گے۔ سمیر سرن کہتے ہیں کہ اس کانفرنس کے بعد BRICکی داغ بیل پڑ جائے گی اور حالیہ عالمی کسادبازاری کی وجہ سے اس کی اہمیت کافی بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب عالمی مالیاتی اداروں میں ان چارو ں ملکوں کی اہمیت زیادہ بڑھ جائے گی۔ تاہم سمیر سرن نے کہا کہ اس نئی تنظیم کے مقاصد کے حصول کا راستہ آسان نہیں ہوگا کیوں کہ بعض طاقتیں انہیں آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کریں گی۔

رپورٹ : افتخار گیلانی، ایکترن برگ(روس)

ادارت: عاطف توقیر