1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روسی سیاست میں ڈرامائی تبدیلی: ’شام میں الیکشن چاہتے ہیں‘

جنگ زدہ شام کے صدر اسد کے سیاسی اور عسکری اتحادی ملک روس نے ایک ڈرامائی اعلان میں کہا ہے کہ وہ شام میں پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کا انعقاد چاہتا ہے اور شامی باغیوں کی فری سیریئن آرمی کی فضائی مدد پر بھی تیار ہے۔

default

دہشت گرد تنظیم داعش کے جہادی شام کے وسیع تر علاقوں پر قابض ہیں

ماسکو سے ہفتہ چوبیس اکتوبر کے روز ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف نے آج کہا کہ کریملن کی خواہش ہے کہ شام میں پارلیمانی اور صدارتی الیکشن کی تیاریاں شروع کی جائیں۔ لاوروف نے یہ بھی کہا کہ شامی تنازعے کے حل کے لیے ماسکو اسد حکومت کے مخالف باغیوں کی فری سیریئن آرمی کو فضائی مدد فراہم کرنے پر بھی تیار ہے۔

روئٹرز نے لکھا ہے کہ روسی وزیر خارجہ کے یہ بیانات شام سے متعلق روسی پوزیشن میں ایک ڈرامائی تبدیلی کا پتہ دیتے ہیں، خاص کر ویانا میں ابھی کل جمعہ تئیس اکتوبر کے روز ہونے والے اس اجلاس کے بعد جس میں روس، امریکا اور دیگر ملکوں کے وزراء نے شامی تنازعے کے سیاسی حل کے بارے میں بحث کی تھی۔

سیرگئی لاوروف نے روس کے سرکاری ٹیلی وژن کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ’’بیرونی کھلاڑی شامیوں کے لیے کسی بھی بات کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ ہمیں شامی عوام کو مجبور کرنا پڑے گا کہ وہ اپنے ملک کے لیے خود ایک منصوبہ تیار کریں، ایک ایسا پلان جس میں تمام مذہبی، نسلی اور سیاسی گروپوں کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہو۔‘‘

لاوروف کے اس بیان کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ انہوں نے زور دے کر کہا کہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ دوسرے ملکوں نے، شامی صدر بشار الاسد کے خلاف اپنی مسلسل بیان بازی کے باوجود، بالآخر شام کی صورت حال کو بہتر طور پر سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ روئٹرز کے مطابق لاوروف نے کہا کہ یہی وہ تبدیلی ہے جو ماسکو کو یہ امید دلاتی ہے کہ مستقبل قریب میں شام میں سیاسی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے گا۔

Österreich Wien Außenminister Kerry, Lawrow, Sinirloglu und al-Jubeir

ویانا میں امریکی، روسی، ترک اور سعودی وزرائے خارجہ نے شامی تنازعے پر بحث جمعہ تئیس اکتوبر کو ہونے والا ایک اجلاس میں کی

سیرگئی لاوروف کے انہی بیانات میں سے ایک اہم بیان یہ بھی ہے کہ روس شام میں اسد مخالف باغیوں کی فری سیریئن آرمی کو مکمل فضائی حمایت بھی مہیا کر سکتا ہے لیکن اس کے لیے لاوروف نے شرط یہ رکھی کہ پہلے امریکا کو اس امر کے تعین میں مدد دینا ہو گی کہ وہ شام میں ’محب وطن اپوزیشن‘ کا نام کن طاقتوں کو دیتا ہے۔

شام میں دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ یا داعش کے ٹھکانوں پر امریکی قیادت میں کیے جانے والے فضائی حملوں اور پھر کئی ہفتے قبل روس کی طرف سے بھی اسلامک اسٹیٹ کے خلاف فضائی کارروائیاں شروع کیے جانے کے پس منظر میں لاوروف نے کہا کہ امریکا ابھی تک شام میں اپنی عسکری کارروائیوں کو روس فضائی کارروائیوں کے ساتھ مربوط کرنے سے جو انکار کر رہا ہے، وہ ’ایک بڑی غلطی‘ ہے۔

DW.COM