1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

روسی حقوقِ انسانی کی تنظیم نے چیچنیا میں کام معطل کردیا

روس کی حقوقِ انسانی کی تنظیم ’میموریل‘ نے ہفتہ کے رور چیچنیا میں اپنا کام بند کردیا۔ میموریل نے ایسا چند روز قبل اپنی کارکن ناتالیا ایستےمیرووا کے قتل کے بعد کیا ہے۔

default

میموریل کی کارکن ناتالیا ایستے میرووا نے چیچنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے کئی رپورٹس تحریر کی تھیں

میموریل کا کہنا ہے کہ ناتالیا ایستے میرووا کے قتل سے ثابت ہوتا ہے کہ چیچنیا میں ان کے لیے کام کرنا انتہائی خطرناک ہو چکا ہے اور وہ اپنے کارکنوں کی زندگیوں کو داؤ پر نہیں لگا سکتی۔ میموریل تنظیم نے اس بات کا اعلان نہیں کیا کہ وہ چیچنیا میں اپنی سرگرمیاں کتنے عرصے کے لیے بند کر رہی ہے۔

Tschetschenien Ramasan Kadyrow neuer Präsident

روسی حمایت یافتہ چیچن صدر رمضان قدیروف

میموریل کی ایک سر گرم کارکن ناتالیا ایستے میرووا کو بدھ کے روز چیچنیا کے دارالحکومت گروزنی سے اغوا کیا گیا تھا جبکہ اغواء شدگان نے انہیں سر اور سینے میں گولیاں مار کر ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاش چیچنیہ کی ہمسایہ روسی جمہوریہ انگوشیتیا کے ایک علاقے میں پھینک دی تھی۔ ناتالیا ایستے میرووا مقتول روسی خاتون صحافی آنا پولیٹکوفسکایا کی قریبی دوست تھیں جو گروزنی میں انسانی حقوق کے لئے سرگرم عمل 'میموریل' نامی گروپ کے لئے ہی کام کرتی تھیں۔

میموریل کے سربراہ اولیگ اورلوف نے ایستے میرووا کے قتل کا الزام روسی حمایت یافتہ چیچن صدر رمضان قدیروف پر عائد کیا ہے۔ جواب میں چیچن رہنما کے وکیل نے میموریل کے سربراہ پر چیچنیا کے صدر کی توہین اور ہتکِ عزّت کی بنیاد پر مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

چیچن صدر کی ویب سائٹ پر ان سے منسوب ایک بیان میں اولیگ اورلوف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اورلوف نہ کوئی جج ہیں نہ استغاثہ جو بغیر کسی ثبوت کہ ان پر ایستے میرووا کے قتل کا الزام عائد کردیں۔ اورلوف کا کہنا ہے کہ وہ جانتے ہیں، اور سبھی جانتے ہیں کہ ایستے میرووا کو رمضان قدیروف نے قتل کروایا ہے۔

Getötete Journalistin Anna Politkovskaya

مقتول روسی خاتون صحافی آنا پولیٹکوفسکایا

واضح رہے کہ چیچن صدر روسی مقتدر حلقوں کے بہت قریب تصوّر کیے جاتے ہیں اور روس کے مطابق انہوں نے چیچنیا میں استحکام پیدا کیا ہے تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں ان پر نکتہ چیں رہی ہیں اور ان پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتی رہی ہیں۔ میموریل کی کارکن ناتالیا ایستے میرووا اس حوالے سے چیچن صدر کی ناقد رہی ہیں اور انہوں نے چیچنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے کئی رپورٹس بھی تحریر کی تھیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں چیچن صدر پر نجی ملیشیا چلانے کا الزام بھی عائد کرتی رہی ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا موقف ہے کہ ناتالیا ایستے میرووا کے قتل کے بعد چیچنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ رپورٹنگ کے امکانات معدوم ہو گئے ہیں۔ میموریل کے چیچنیا میں اپنی سرگرمیاں بند کرنے سے صورتِ حال مزید خراب ہوئی ہے۔

DW.COM