1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روسی بھارتی تعلقات نئی منزلوں کی طرف گامزن

روس اور بھارت نے اپنے دیرینہ تعلقات کو نئی جہت دینے کے لئے سول نیوکلیائی تعاون اور پانچویں جنریشن کے جنگی طیارے کی تیاری سمیت متعدد شعبوں میں آج تیس معاہدے کئے ہیں۔

default

بھارت اور روس کے درمیان تیس معاہدے طے پائے

بھارت اور روس کے رہنماﺅں کے درمیان سالانہ میٹنگ میں شرکت کے لئے دوروزہ دورے پر آئے روسی صدر دمتری میدویدیف اور وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے دو گھنٹے طویل بات چیت کے دوران باہمی، علاقائی اورعالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماﺅں نے پاکستان اور افغانستان کی صورت حال کا بھی جائزہ لیا۔ دونوں ملکوں نے دفاع، توانائی، سائنس وٹکنا لوجی، خلائی تحقیق اور دوا سازی جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید وسیع کرنے کے علاوہ 2015 تک باہمی تجارت 20 بلین ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا۔

دمتری میدویدیف اور ڈاکٹرسنگھ کے درمیان بات چیت کے بعد جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک جنگی طیاروں کے ڈیزائن کے پروجیکٹ پر کام کریں گے۔ دونوں رہنما جنوبی ریاست تامل ناڈو کے کنڈا کولم نیوکلیائی پاور پلانٹ کے لئے تیسرے اور چوتھے یونٹوں کی تعمیر پر رضامند ہوگئے ہیں۔ روس نے بھارت کے نیوکلیائی سپلائر گروپ میں شمولیت کے علاوہ میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول رجیم کی رکنیت کے لئے بھی حمایت کا اعلان کیا۔

Indien Russland Wladimir Putin bei Manmohan Singh in Delhi

روس کے بھارت کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں

خیال رہے کہ روس سابقہ سوویت یونین کے زمانے سے ہی بھارت کا قریبی پارٹنر رہاہے۔ بھارت کی دفاعی مارکیٹ میں ایک مدت تک اس کی اجارہ داری رہی ہے۔ تاہم نئی دہلی نے حالیہ برسوں میں دیگر ممالک کے ساتھ بھی بڑے دفاعی سودے کئے ہیں۔

مسٹر دمتری میدویدیف نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر سلامتی کونسل میں توسیع ہوتی ہے تو بھارت اس کا مستقل رکن بننے کا حقدار ہے۔ ممبئی پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کے پس منظر میں ایک سوال کے جواب میں روسی صدر نے کہا۔ ”دہشت گردوں کو سزا ملنی ہی چاہئے۔ کوئی بھی ملک انہیں عام شہری کی طرح جگہ نہیں دے سکتا اور انہیں متعلقہ ملک واپس بھیجھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حوالگی یقیناً ایک پیچیدہ عمل ہوتا ہے۔ اس کے لئے ڈھانچے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ایسا ڈھانچہ تیار ہونے کے بعد دہشت گردوں کو ان ملکوں کے حوالے کردینا چاہئے جہاں انہوں نے جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ تاکہ انہیں سزا مل سکے۔‘‘

ڈاکٹر سنگھ نے روس کے ساتھ دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ روس بھارت کا ایسا دوست ہے، جس نے ہر اچھے برے وقت میں بھارت کا ساتھ دیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ بھارت کے دیگر ملکوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کے باوجود روس کے ساتھ رشتہ آگے بڑھتا رہے گا۔

رپورٹ: افتخار گیلانی/ نئی دہلی

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM