1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روسی بمباری اور حما میں شامی فورسز کی پیشقدمی

شامی فورسز اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں نے روسی جیٹ طیاروں کے تعاون سے حما صوبے میں کامیاب پیشقدمی کی ہے۔ ادھر نیٹو نے کہا ہے کہ شامی تنازعے میں روسی عسکری مداخلت سے اس بحران کی شدت میں صرف اضافہ ہو سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیر کے دن شامی حکومت کی اتحادی فورسز اور حزب اللہ کے جنگجوؤں نے حما کے کفر نبودہ نامی علاقے میں کامیاب پیش قدمی کی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ روسی جنگی طیاروں نے اسی علاقے میں بیس فضائی حملے کیے، جن میں اسلامک اسٹیٹ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ روسی جنگی طیاروں نے اہداف پر ہزاروں شیل برسائے۔

DW.COM

رامی عبدالراحمان کے مطابق اس روسی فضائی کارروائی کی مدد سے شامی فورسز اور اس کی حامی ملیشیا حزب اللہ کے جنگجو اس علاقے میں کامیاب پیشقدمی کرنے کے قابل ہوئے۔ ان علاقوں میں شامی فورسز کو جہادیوں کی شدید مزاحمت کا سامنا تھا لیکن آبزرویٹری کے مطابق روسی عسکری مداخلت کے باعث ان فورسز کو نہ صرف حوصلہ ملا ہے بلکہ وہ فوجی مدد سے بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

ماسکو حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اپنی اس فضائی کارروائی میں انتہا پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے جنگجوؤں کو نشانہ بنا رہی ہے لیکن ایسے شواہد بھی ملے ہیں کہ ایسے بہت سے حملے بھی کیے گئے ہیں، جن میں دیگر باغی گروہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان میں سے ایسے اعتدال پسند باغی گروہ بھی شامل ہیں، جن کو امریکا کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ امریکی تربیت یافتہ باغی بھی روسی بمباری کا نشانہ بنے ہیں۔

شام کے بحران پر نظر رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے تصدیق کی ہے کہ پیر کے دن حزب اللہ اور دیگر فورسز نے کفر نبودہ کا شمالی علاقہ اپنے قبضے میں کر لیا۔ رامی عبدالرحمان نے مطابق اس شدید لڑائی میں درجنوں افراد کے ہلاک ہونے کا بتایا۔

Russland Moskau Sukhoi Su-34 Kampfjet Sukhoi T-50 PAK FA Demonstrationsflug

نیٹو نے کہا ہے کہ شامی تنازعے میں روسی عسکری مداخلت سے اس بحران کی شدت میں صرف اضافہ ہو سکتا ہے

کفر نبودہ کا علاقہ حکمت عملی کے حوالے سے انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے۔ اگر شامی فورسز نے اس علاقے پر مکمل قبضہ کر لیا تو وہ شدت پسندوں کی اہم سپلائی کو معطل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ یہ وہی علاقہ ہے، جہاں سے جہادی شام کے متعدد اہم شہروں سے رابطے میں ہیں۔

ادھر مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سربراہ ژینس اسٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ روسی عسکری مداخلت سے شامی تنازعہ مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔ انہوں نے اِس بات کو ایک مرتبہ پھر دہرایا کہ شامی بحران کے حل اور جہادیوں کے خلاف کارروائی کے لیے ماسکو کو تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کو مدد فراہم کرنے سے معاملات مزید خراب ہو جائیں گے۔