1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روسی اپوزیشن کے تین رہنماؤں کو سزا

ایک روسی عدالت نےحکومت کے تین ناقدین کو 15 دنوں تک کی قید کی سزا سنائی ہے۔ ان میں سابق نائب وزیر اعظم بورس نیمٹسوف بھی شامل ہیں۔

default

بورس نیمٹسوف کو پہلے بھی کئی مرتبہ گرفتار کیا جا چکا ہے۔

روسی عدالت کا موقف ہے کہ ان افراد نے نئے سال کے موقع پر ایک غیر قانونی مظاہرے میں شرکت کی اور پولیس کے احکامات ماننے سے بھی انکار کیا۔ جن افراد کو سزا سنائی گئی ہے ان میں سابق نائب وزیراعظم اور آج کل حزب اختلاف کے سربراہ بورس نیمٹسوف بھی شامل ہیں۔ ان کا شمار صدر دیمتری میدویدیف اور وزیراعظم ولادیمیر پوٹن کے شدید ناقدین میں ہوتا ہے۔ انہیں پہلے بھی مختلف مقدمات میں پابند سلاسل رکھا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ کونسٹانٹن کوسیانک کو دس دن جبکہ الیایاسچن کو پانچ روز تک قید میں رکھا جائے گا۔

Proteste der russischen Opposition auf dem Triumphplatz in Moskau

روس میں ہر ماہ کے آخری دن حزب اختلاف کی جانب سے احتجاج ایک روایت بن چکا ہے۔

تقریباً ایک سال کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ روس میں اپوزیشن رہنماؤں کو قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ پولیس نے حکم عدولی کے جرم میں ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ سے مزید 130 افراد کو بھی حراست میں لیا ہے۔ ان مظاہروں میں شرکاء نے میخائل خودورکوفسکی کےحق میں بھی نعرے بازی کی۔ روس میں تیل کی صنعت سے وابستہ اس ارب پتی شخصیت کو گزشتہ دنوں مزید کئی سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس موقع پر بورس نیمٹسوف کا کہنا تھا، ’’روس میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔‘‘ امریکہ سمیت یورپی یونین کے ممالک نے خودورکوفسکی کو نئی سزا سنائے جانے پر شدید احتجاج کیا تھا۔

ماسکو کی شہری انتظامیہ نے چھوٹے پیمانے پراس احتجاج کی اجازت دی تھی۔ تاہم ایک اخباری نمائندے کے مطابق نیمٹسوف اور ان کے حامیوں نے پولیس کی جانب سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے کریملن کے قریب جانے کی کوشش کی۔ تاہم آزاد ذرائع سے اس خبرکی تصدیق نہیں ہو سکی۔ نیمٹسوف نے اپنے ایک ریڈیو انٹرویو میں سرکاری ذرائع کی طرف سے طاقت کے استعمال پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ ان کے علاوہ ایک اور اپوزیشن رہنما اولگا شورینا کا کہنا تھا کہ حکومت اس طرح کے اقدامات سے حزب اختلاف کو ڈرانا دھمکانا چاہتی ہے۔

Milizionäre in Moskau

ایک نمائندے کے مطابق مظاہرین نے کاوٹوں کو توڑتے ہوئےکریملن کے قریب جانے کی کوشش کی۔

اس کے علاوہ ادیب اور اپوزیشن رہنما ایڈورڈ لیمانوف کو ماسکو میں ان کے گھر کے پاس سے گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتاری کے فوراً بعد ہی پولیس کو برا بھلا کہنے کے جرم میں انہیں 15 دن قید کی سزا سنا دی گئی تھی۔

روس میں ہر ماہ کے آخری دن حزب اختلاف کے حامی اور رہنماؤں کی جانب سے کریملن کے خلاف احتجاج کرنا ایک روایت بن چکا ہے۔ اس کا مقصد روسی آئین کی شق 31 کی یاد دہانی کرانا ہے، جس میں روس میں عوامی اجتماع کی آزادی کی بات کی گئی ہے۔ ہر مرتبہ پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشرکرنے کی کوشش کرتی ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس