1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

روسی انسانیت پسند مصنف فاضل اسکندر وفات پا گئے

عہد حاضر کے مشہور روسی مصنف فاضل اسکندر اتوار کے روز ستاسی برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی تنقیدی اور مزاح سے بھرپور تحریریں کمیونسٹ دور کے قفقاذ کی روزمرہ زندگی پر روشنی ڈالتی ہیں۔

سوویت دور میں شہرت حاصل کرنے والے فاضل اسکندر ایک ایسے منفرد روسی مصنف تھے، جو اپنی نسلی شناخت کو انتہائی فخر کے ساتھ بیان کیا کرتے تھے۔ ان کا شمار سوویت دور اور اس کے بعد روس میں عصر حاضر کے بڑے اور بااثر دانشوروں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے ان سیاسی موضوعات کے بارے میں بھی انتہائی خوبصورتی سے لکھا، جن کے بارے میں بات کرنا بھی جرم سمجھا جاتا تھا۔ تاہم انہوں نے خود کو کبھی بھی باغی تصور نہیں کیا تھا۔

1929ء میں ابخازیہ میں پیدا ہونے والے اس مصنف کی والدہ کا تعلق تو ابخازیہ سے تھا لیکن ان کے والد ایرانی تھے۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد سے ابخازیہ جارجیا کا ایک علیحدگی پسند حصہ ہے اور اسے روس کی حمایت بھی حاصل ہے۔

فاضل اسکندر کے بچپن ہی میں ان کے والد کا انتقال ہو گیا تھا۔ ان کے والد کو 1938ء میں ایران جلاوطن کر دیا گیا تھا، جہاں وہ بعد ازاں انتقال کر گئے تھے۔ فاضل انتہائی ذہین نوجوان تھے اور اسی بنیاد پر انہیں ماسکو کے انتہائی اعلیٰ گورکی ادبی انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ مل گیا تھا۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک علاقائی صحافی کے طور پر کیا تھا۔

فاضل نے ہمیشہ روسی زبان میں ہی لکھا جبکہ قارئین کو ان کی مزاح نگاری بہت پسند تھی، جس میں ہمدردی بھی تھی اور علاقائی جھلک بھی نمایاں تھی۔ انہوں نے سوویت بیوروکریٹس اور سٹالن دور کے مظالم کی بھی کبھی پردہ پوشی کی کوشش نہیں کی تھی۔

فاضل اسکندر نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ ماسکو میں ہی بسر کیا تھا۔ گزشتہ چند برسوں سے انہوں نے لکھنے کا عمل ترک کر دیا تھا جبکہ سیاست پر بھی ان کا کوئی تبصرہ شاذ و نادر ہی پڑھنے کو ملتا تھا۔ ماسکو حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں ان کے انتقال پر ’گہرے دکھ‘ کا اظہار کیا گیا ہے۔

کالعدم سوویت یونین کے دور میں ان کی زیادہ تر تحریروں کو سنسر کر دیا جاتا تھا جبکہ 1983ء میں پہلی مرتبہ ان کی تصنیفات کا انگریزی زبان میں ترجمہ بھی شائع ہوا تھا۔