1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

روسی اسامہ بن لادن: ڈوکو عمروف

ماسکو میں پیر کو ٹرام اسٹیشنوں پر ہونے خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے والے انتہاپسند چیچن لیڈر ڈوکو عمروف المعروف ڈوکو ابو عثمان کو روسی میڈیا نے اپنے ملک کا اسامہ بن لادن قرار دیا ہے۔

default

روس کے علاقے شمالی قفقاذ میں سرگرم انتہاپسند لیڈر ڈوکو عمروف کی گرفتاری کے عمل کو انتہائی تیز تر کردیا گیا ہے۔ اِس وقت اسے روس میں حکومت کو انتہائی مطلوب شخص خیال کیا جا رہا ہے۔ اس کے نام پر کئی دہشت گردانہ کارروائیاں اور جرائم روسی محکمہ داخلہ کے ریکارڈ پر موجود ہیں۔

ڈوکو عمروف علیٰحدگی پسند تحریک چیجن جمہوریہ اچکیرایا کا خود ساختہ پانچواں صدر تھا۔ اِس دوران اس نے اپنا عربی نام بھی متعارف کروایا، جو ڈوکو ابو عثمان ہے جبکہ اُس کا اصل نام ڈوکو خاتمووچ عمروف ہے۔ بعد میں اپنے منصب میں تبدیلی لاتے ہوئے خود کو قفقاذ امارات کا امیر قرار دیا۔ اس کی عمر پینتالیس سال ہے۔ عمروف تیرہ اپریل سن 1964ء میں پیدا ہوا۔ شمالی قفقاذ میں جاری علیٰحدگی پسند تحریک میں اُس کے کئی قریبی رشتہ دار کام آ چکے ہیں۔ وہ شادی شدہ ہیں اور اُس کے چھ بچے ہیں۔ وہ شمالی قفقاذ خطے کی روس سے علیٰحدگی چاہتا ہے۔

اپنے ایک تازہ بیان میں اُس کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر اس کے پاس مناسب سرمایہ ہو تو وہ ہزاروں جہادی میدان میں اتار سکتا ہے۔ دوسری طرف کریملن حکومت کے ذمہ داران کو یقین ہے کہ عمروف کے ہمراہ بمشکل پانچ سو افراد ہیں، جو دہشت گردانہ معاملات میں اُس کا ساتھ دے رہے ہیں۔

Russland Zahlreiche Tote bei U-Bahn-Explosionen in Moskau‎

حالیہ ماسکو دھماکوں کی ذمہ داری ڈوکو عمروف نے قبول کی ہے

روس کے خفیہ ادارے اور محکمہ وزارت داخلہ اس کی تلاش میں پہلے بھی سرگرم تھی لیکن اب روسی صدر اور وزیر اعظم کے حکم پر اُس کے کھوج کے عمل کو ترجیحی بنیادوں پر شروع کیا جا چکا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انتہاپسند لیڈر ڈوکو عمروف شمالی قفقاذ کے گھنے اور دشوار گزار پہاڑی جنگلات میں روپوش ہے۔ بعض رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ وہ روس کے میدانی علاقوں میں بھیس بدل کر مقیم ہے۔

ماسکو ٹرام اسٹیشنوں کے بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے کی ویڈیو ٹیپ ’دی قفقاذ سینٹر‘ نامی ویب سائٹ پر جاری کی گئی تھی۔ اُس میں ڈوکو عمروف نے روسی عوام سے کہا تھا کہ وہ اُن سے وعدہ کرتا ہے کہ اب یہ جنگ ان کی گلیوں میں لڑی جائے گی۔ عمروف نے پیر کے خودکش بم حملوں کو قفقاذ علاقے کی ریاستوں چیچنیا اور انگو شیتیا میں پوتن کے احکام پر جاری حکومتی کارروائی کا انتقام قرار دیا تھا۔

روس کے چیف پراسیکیوٹر کے مطابق عمروف دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے علاوہ ڈکیتی، قتل اور اغوا برائے تاوان کی کئی وارداتوں میں بھی مطلوب ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت کے حمایتی روسی جمہوریہ چیچنیا کےے صدر رمضان قادریوف نے بھی اعلان کیا ہے کہ ڈوکو عمروف کا مکمل صفایا کردیا جائے گا۔ قادریوف کا یہ بھی خیال ہے کہ شمالی قفقاذ کے علیحدگی پسندوں کو القاعدہ کی جانب سے تھوڑی بہت مالی معاونت بھی حاصل ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM