روسٹاک اور وارن میوندے | معلوماتِ جرمنی | DW | 25.04.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معلوماتِ جرمنی

روسٹاک اور وارن میوندے

’اس کےبال سنہرے نہیں، وضع قطع سے وہ بہت خوش لباس نہیں لیکن اس کے باوجود وہ جاذب نظر اور دوسروں سے مختلف نظر آتی ہے۔ ‘ یہ تصویر کشی وارن میوندے کی ہے جو جرمنی کے شہر روسٹاک سے 15 کلو میٹر کے فاصلےپر واقع ہے۔

ان دونوں کا رشتہ ماں بیٹی جیسا ہے اور دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم وملزوم ہیں۔ روسٹاک ایک بڑا اور مصروف شہر ہے اوریہ تقریباﹰ آٹھ سو سال پرانا ہے۔ یہاں گوتھک تعمیراتی طرز کے مکانات اور قرون وسطٰی دور کے چرچ موجود ہیں جبکہ وارن میوندے بحیرہ بالٹک کے کنارے واقع ایک ساحلی علاقہ ہے۔

روسٹاک میں انصمام

ماضی میں وارن میوندے روسٹاک شہر کا حصہ نہیں تھا۔ دراصل یہ ہنری فان میکلن برگ کے زیر انتظام تھا لیکن 1323ء میں تجارتی منافع کی لالچ میں وارن میوندےاور گردونواح کی زمینیں روسٹاک کو فروخت کر دیں گئیں۔

Flash-Galerie Deutschland Aufbau Ost vorher nachher Rostock Altstadt

پرانے شہر کا ایک منظر

روسٹاک کے زیر انتظام آنے کے بعد یہاں پہلا گورنر جنرل بھی روسٹاک سے ہی تھا۔ اس گورنر کے بنیادی فرائض اس شہر کی انتظامیہ کی نگرانی اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ تھا۔ لیکن اپنی ذمہ داریوں کے برعکس اس نے وارن میوندے کے تمام بڑی تجارتی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی۔ صرف ماہی گیروں اور ملاحوں کو کام کی اجازت تھی اس کے علاوہ دوسرے تمام کاروبار اور مچھلی کی تجارت پر پابندی لگا دی گئی کیونکہ روسٹاک کی حکومت ہر قسم کی تجارت اور صنعتوں کا مرکز اپنے پاس رکھنا چاہتی تھی۔

اس طرح یہ علاقہ نظرانداز کیا جاتا رہا۔ بیرونی حملہ آور روسٹاک پر اسی سمندری راستے کے ذریعے حملہ کرتے تھےجس کے پیش نظر وارن میوندے کو دفاع کا مضبوط مرکز بنادیا گیا۔

آج وارن میوندے، روسٹاک کا مضبوط معیشی مرکز ہے۔ بحیرہ بالٹک پر واقع طویل ساحل سیاحوں کی توجہ کا خصوصی مرکز ہے۔ یہاں کی درخت کی ٹہنی سے بنی ساحلی کرسی پوری دنیا میں مشہور ہے۔ یہاں ہوائی جہاز کے پرزہ جات بنانے کا ایک بڑا کارخانہ، وارنو ورفٹ قائم ہےجہاں تقریباﹰ تین ہزار لوگ کام کرتے ہیں۔

Hanse Sail Rostock 2009 Flash-Galerie

راسٹوک کی بندرگاہ پر لنگر انداز بحری جہاز

یہاں یورپ کا جدید ترین شپ یارڈ بھی ہے لیکن ترقی کی دوڑ میں یہ ناکافی ہیں۔ شہر کی سڑکوں کے نام مختلف ادوار میں تاریخی پس منظر رکھنے والی شخصیات کے نام پر رکھے گئےہیں۔

ایک اٹوٹ رشتہ

ماضی کی ناخوشگوار یادوں کے باوجود وارن میوندے اور روسٹاک ایک دوسرے کے لئے لازم وملزوم ہیں۔ اس شہر کو دریائے وارنو نے دو حصوں میں تقسیم کیا ہےجو کہ شہر کے جنوبی حصے سےشروع ہو کر شمالی حصے یعنی وارن میوندے تک پھیلا ہوا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دریائے وارنو بحیرہ بالٹک میں جا گرتا ہے۔

DW.COM

ویب لنکس