1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روزا اوتنبائیوا، کرغزستان کی پہلی ‌خاتون صدر

کرغزستان میں سابق نگراں سربراہ حکومت روزا اوتنبائیوا نے ملک کی پہلی خاتون صدر کے طور پر اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ ہفتے کو ان کی حلف برداری کی تقریب دارالحکومت بشکیک میں ایک ہزار سے زائد افراد کی موجودگی میں ہوئی۔

default

حلف برداری کے بعد حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے روزا اوتنبائیوا نے کہا کہ وہ ملک میں نئی سیاسی اصلاحات کے نفاذ کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں گی۔

گزشتہ چند ماہ سے نسلی فسادات کی شکار اس سابقہ سوویت ریاست میں سیاسی بحران کو خود کئی مسائل کی جڑ قرار دیا جاتا ہے۔اوتنبائیوا نے اپنے خطاب میں کہا کہ بطور صدر مملکت وہ آئین اور قانون کی بالادستی کی بھرپور کوشش کریں گی۔

Kirgisistan Bischkek Rosa Otunbajewa Vereidigung

حلف برداری کی تقریب کا ایک منظر

’’میں اصولی مؤقف پر قائم رہتے ہوئے حکومت کی تمام شاخوں سے مسلسل یہی مطالبہ کرتی رہوں گی کہ ملک کے لئے نئی پالیسی خیالی یا مبہم اندازوں پر نہ بنائی جائے بلکہ اسے مستحکم اور قابل عمل ہونا چاہیے۔‘‘

سابقہ وزیرخارجہ اور ماضی میں برطانیہ کے لئے کرغزستان کی سفیر کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کرنے والی اوتنبائیوا رواں برس اپریل میں پرتشدد مظاہروں اور سابق صدر کرمان بیک باقییف کی جبری معزولی کے بعد عبوری صدر کے عہدے پر براجمان ہوئیں تھیں۔

اوتنبائیوا نے ایسے وقت میں ملکی صدر کے عہدے کا باقاعدہ حلف اٹھایا ہے، جب ایک طرف تو ملک نسلی فسادات کی بدترین ہولناکیوں کا شکار ہے اور دوسری طرف چند روز قبل ہی عوام نے ایک ریفرنڈم کے ذریعے آئین میں اصلاحات اور سیاسی نظام کی تبدیلی کے حق میں فیصلہ سنایا ہے۔

ریفرنڈم کے بعد یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ کرغز عوام اپنے ملک سے صدارتی نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں اور ان کی نگاہ میں پارلیمانی نظام ملک کے لئے زیادہ سود مند ہے۔

Unruhen in Kirgisistan

جنوبی شہر اوش میں فسادات کے بعد کا منظر

گزشتہ اتوار کو ہونے والے اس ریفرنڈم میں ایک چارٹر کی منظوری دی گئی، جس کے تحت صدر کے اختیارات میں کمی اور ملک میں عام انتخابات کے ذریعے پارلیمان کی تشکیل کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ اگر عام انتخابات کے بعد وہاں ایک پارلیمان تشکیل پا جاتی ہے، تو یہ ریاست وسط ایشیائی خطے کی پہلی پارلیمانی جمہوریہ ہو گی۔

مجوزہ عام انتخابات رواں برس اکتوبر کے اوائل میں ہوں گے۔ اوتنبائیوا پارلیمان کی تشکیل کے بعد صدارتی انتخابات کے انعقاد تک ملکی صدر کے عہدے پر فائز رہیں گی۔

گزشتہ ماہ کرغزستان کے جنوبی حصے میں ازبک اقلیت اور کرغز اکثریت کے درمیان ہونے والے نسلی فسادات میں لگ بھگ 2000 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔ ایسے حالات میں ریفرنڈم کے انعقاد پر کئی طرح کے سوالات اٹھائے جا رہے تھے، تاہم حکومت نے یہ ریفرنڈم مقرر دن ہی منعقد کروایا اور عوام کی بڑی تعداد نے غیر متوقع طور پر اس ریفرنڈم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ صدر اوتنبائیوا نے خود فسادات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہر اوش میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM