1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روحانی فرانس میں: اربوں یورو کے معاہدوں پر دستخط

ایرانی اور فرانسیسی صدورکے مابین ہونے والی ملاقات میں تجارت کے فروغ کے علاوہ خطے میں قیام امن کے موضوع پر بھی تبادلہٴ خیال ہو رہا ہے۔ 1999ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی ایرانی صدر فرانس کا دورہ کر رہا ہے۔

آج مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً چار بجے ایرانی صدر حسن روحانی اپنے میزبان فرانسیسی سربراہ مملکت فرانسو اولانڈ سے ملاقات کرنے ایلیزے پیلس پہنچے۔ ان دونوں سربراہان کی ملاقات کے دوران خطے میں امن کے قیام، خاص طور پر شام اور یمن کے علاوہ دیگر موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اولانڈ اور روحانی کے مابین تقریباً دو گھنٹوں تک جاری رہنے والی ملاقات کے بعد دونوں صدور ایک تقریب میں تقریباً بیس مختلف معاہدوں پر دستخط کرنے والے ہیں۔ اس کے بعد دونوں رہنما ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب بھی کریں گے۔

اس سے قبل روحانی نے پیرس میں ایک فرانسیسی تھنک ٹینک ’آئی ایف آر آئی‘ کے دورے کے دوران کہا: ’’ہماری قوم نے گزرے ہوئے ان برسوں کے دوران بہت بھاری بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھایا ہے اور اس دوران بغیر شکایت کیے تین ملین سے زائد مہاجرین کو پناہ بھی دی‘‘۔

Frankreich Iran Protest gegen den Besuch von Rohani

انسانی حقوق کے کارکنوں نے ایلیزے پیلس کے سامنے حسن روحانی کے دورے کے خلاف احتجاج بھی کیا

روحانی کے بقول شام سے غربت اور جنگ سے فرار ہو کر صرف ایک ملین افراد گزشتہ برس یورپ پہنچے ہیں:’’تمام تر وسائل اور اثر و رسوخ ہونے کے باوجود یورپی کہہ رہے ہیں کہ اب ہم کیا کریں؟‘‘ اس دوران انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اقتصادی پابندیوں کے باجود تہران حکومت افغانستان اور دیگر علاقوں سے آئے ہوئے مہاجرین کے بحران سے کس طرح نمٹتی رہی ہے۔

فرانس اور ایران نے ایئر بس کے درجنوں طیاروں کی فروخت کے منصوبے کی تصدیق بھی کی ہے۔ اسی طرح دونوں ممالک کے مابین کار سازی کے شعبے میں کئی دہائیوں قبل ہونے والے معاہدوں کی تجدید پر بھی خوشی کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان میں سے بہت سے معاہدوں پر ابھی دستخط نہیں ہوئے ہیں لیکن امید ہے کہ روحانی کے فرانس کے دورے کے دوران انہیں جمعرات کی شام حتمی شکل دے دی جائے گی۔

دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں نے ایلیزے پیلس کے سامنے حسن روحانی کے دورے کے خلاف احتجاج بھی کیا۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اولانڈ اور روحانی دونوں انسانی حقوق کی پامالیوں کے سلسلے میں جواب دہ ہیں۔ اس تنظیم کے بیان کے مطابق حسن روحانی سے ملک میں دی جانے والی موت کی سزاؤں کے علاوہ خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں پوچھا جانا چاہیے۔ دوسری طرف اولانڈ سے پیرس حملوں کے بعد ملک میں نافذ کی جانے والی ہنگامی حالت کے بارے میں جرح کی جانی چاہیے کیونکہ اس سے فرانس میں اظہارِ رائے کی آزادی کے حق کو خطرہ لاحق ہے۔ روحانی اٹلی کا دورہ مکمل کرنے کے بعد بدھ کے روز فرانس پہنچے تھے۔