1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

روایتی عید کارڈز کی جگہ اب ای میل اور ایس ایم ایس

عید کارڈز کی فروخت کے لیے مارکیٹوں میں خصوصی اسٹالوں کے ساتھ ساتھ ترسیل کے لیے محکمہ ڈاک خصوصی انتظامات کرتا تھا۔ اب صورتحال بہت بدل گئی ہے، روایتی عید کارڈز کی جگہ برقی پیغامات، ای کارڈز اور ایس ایم ایس نے لے لی ہے۔

default

چند سال پہلے تک عید کے موقع پر عید کارڈز ہی اپنے پیاروں کوعید کی مبارک باد کہنے کا اہم ذریعہ ہوتے تھے۔ ان عید کارڈز کی فروخت کے لیے پاکستان بھر کے چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں کی مارکیٹوں اور بازاروں میں خصوصی سٹال لگائے جاتے تھے۔ ان عید کارڈز کی ترسیل کے لیے ڈاک کا محکمہ خصوصی انتظامات کیا کرتا تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ پیار بھری روایت ختم ہو رہی ہے۔ جدید دور کے تقاضوں کے تحت اب صورتحال بہت بدل چکی ہے، روایتی عید کارڈز کی جگہ برقی پیغامات، الیکٹرانک کارڈز اور ایس ایم ایس نے لینا شروع کردی ہے۔

ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے ایک نوجوان کاشف محمود نے بتایا کہ پندرہ روپے کے ٹکٹ اور پچاس روپے کا کارڈ خریدنے کے باوجود یہ یقین سے نہیں کیا جا سکتا کہ یہ عید کارڈ بروقت منزل مقصود پر پہنچ سکے گا یا نہیں۔ ان کے بقول عید کارڈ کے عید کے بعد پہنچنے سے کارڈ بھیجنے اور وصول کرنے والوں کو بہت تکلیف ہوتی تھی اس لیے آج کل لوگ عید کے پیغامات کی ترسیل کے لیے جدید، تیز رفتار اور سستے ذرائع یعنی ایس ایم ایس اور ای میلز استعمال کرنے لگے ہیں۔

Ramadan Ende in Srinagar NO Flash

رمضان کے روزوں کے بعد عیدالفطر کا تہوار منایا جاتا ہے

ایک اشتہاری ادارے کے مالک راجہ فرخ نے بتایا کی عید کارڈز کی ایک بہت بڑی انڈسٹری ہوا کرتی تھی۔ اشاعتی ادارے سارا سارا سال عید کارڈز کی تیاری اور ڈیزائننگ پر کام کرتے تھے اور ان کی پرنٹنگ بھی بڑی مہارت سے کی جاتی تھی۔ اشاعتی اداروں کے درمیان عید کارڈز کی فروخت کے حوالے سے ایک مقابلے کا سا سماں دیکھنے کو ملتا تھا۔ ان کے بقول غالباً خراب معاشی حالات کی وجہ سے عید کارڈز کی صنعت تیزی سے روبہ زوال ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں اور بڑے بڑے اداروں نے بھی عید کارڈز چھپوانا کم کر دیے ہیں

صحافت کی ایک طالبہ تنزیلہ نے بتایا کہ یہ بات درست ہے کہ عید کارڈز بھیجنے کا رجحان اب ختم ہوتا جا رہا ہے لیکن ان کے بقول پھر بھی کسی کو یاد رکھنا، اس کے لیے عید کارڈ لینے بازار جانا، درجنوں کارڈز میں سے ایک کارڈ خریدنا اور اس پر اپنے ہاتھ سے پیغام تحریر کرنا، عید کے پیغام میں ذاتی جذبات بھر دیتا ہے۔ ان کے بقول آج بھی عید کارڈ بھیجنے کا مزا ہی الگ ہے۔

عید کارڈز بھیجنے کے رجحان میں کمی سے جہاں تاجروں کو نقصان پہنچا ہے وہاں محکمہ ڈاک کی عید کے موقع پر ہونے والی آمدنی بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

ایک سماجی تجزیہ نگار احمد شیخ کہتے ہیں کہ انہیں دکھ تو ہے کہ عید کارڈ بھیجنے کی رسم دم توڑ رہی ہے لیکن انہیں اس بات کی خوشی ضرور ہے کہ لوگوں نے ایک دوسرے کو عید کی مبارک باد دینا ترک نہیں کیا ہے۔

 

رپورٹ: تنویر شہزاد لاہور

ادارت:  عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس