1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

رواں ہفتے کینیڈا کے افغانستان مشن کا اختتام

افغانستان میں کینیڈا کے تقریباً 3 ہزار فوجی تعینات ہیں تاہم 9 سال کے عرصے، اپنے 157 فوجیوں کی ہلاکت اور 11 ارب ڈالر سے زیادہ کے اخراجات کے بعد بالآخر اس ہفتے کینیڈا کا افغانستان مشن اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔

قندھار متعینہ کینیڈین فوجی گشت پر

قندھار متعینہ کینیڈین فوجی

ان 9 برسوں کے دوران کینیڈا کے فوجی زیادہ تر قندھار کے علاقے میں سرگرم رہے، جو زیادہ خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ کینیڈا کے عوام میں بھی اپنی فوج کے افغانستان مشن کی حمایت کم ہوتی چلی گئی ہے۔ جہاں ایک سروے کے مطابق 2010ء میں کینیڈا کے 47 فیصد شہری افغان جنگ کے خلاف تھے، وہاں اس سال یہ شرح بڑھ کر 63 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

کینیڈا کے فوجیوں کی وطن واپسی کا عمل شروع بھی ہو چکا ہے اور جلد ہی باقی ماندہ فوجی بھی کینیڈا کے لیے رختِ سفر باندھنے والے ہیں۔ گزرے دنوں اور ہفتوں کے دوران کینیڈا کے یہ فوجی اپنی ذمہ داریوں کو حتمی طور پر انجام تک پہنچاتے ہوئے اپنے سامان کی پیکنگ میں مصروف رہے ہیں اور مرحلہ وار قندھار کے فوجی ہوائی اڈے پر جمع ہو رہے ہیں تاکہ وہاں سے اپنے وطن کی جانب پرواز کر سکیں۔

مئی 2007ء میں افغانستان کا دورہ کرنے والے کینیڈین وزیر اعظم اسٹیفن ہارپر افغان صدر حامد کرزئی کے ہمراہ

مئی 2007ء میں افغانستان کا دورہ کرنے والے کینیڈین وزیر اعظم اسٹیفن ہارپر افغان صدر حامد کرزئی کے ہمراہ

سرکاری طور پر افغانستان میں کینیڈا کا یہ فوجی مشن، جو اس ملک میں امریکی سرکردگی میں ہونے والی فوجی پیشقدمی کے چند ماہ بعد 2002ء کے اوائل میں شروع ہوا تھا، رواں ہفتے جمعرات سات جولائی کو اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔ کینیڈا کے فوجی رخصت ہونے سے پہلے اپنی ذمہ داریاں امریکی دستوں کے حوالے کر رہے ہیں۔

اسی دوران مغربی دُنیا کے دیگر ممالک میں بھی عوام تقریباً ایک عشرے سے جاری اس جنگ سے تھک چکے ہیں اور دیگر ممالک نے بھی اپنے فوجی دستوں کے افغانستان سے جزوی انخلاء کا اعلان کیا ہے۔

حال ہی میں امریکی صدر باراک اوباما نے اعلان کیا تھا کہ وہ 2012ء کے اواخر تک افغانستان سے اپنے 33 ہزار فوجی واپس بلا لیں گے۔ اسی طرح فرانس، بیلجیئم اور برطانیہ نے بھی جلد اپنے دستے واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ 2014ء کے اواخر تک تمام غیر ملکی دستے امن و امان اور سکیورٹی کی تمام تر ذمہ داریاں افغان فورسز کے حوالے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

قندھار میں کینیڈا کے فوجی دستے کے معصوم گھر نامی اڈے پر ایک ہیلی کاپٹر اتر رہا ہے

قندھار میں کینیڈا کے فوجی دستے کے معصوم گھر نامی اڈے پر ایک ہیلی کاپٹر اتر رہا ہے

کینیڈا کے ڈپٹی ٹاسک فورس کمانڈر کرنل Richard Giguere نے کہا کہ اُن کے فوجی آخری لمحے تک اپنی توجہ اپنے فرائض کی انجام دہی پر مرکوز رکھیں گے اور یہ کہ اب تک کینیڈا نے افغانستان میں جو کچھ حاصل کیا ہے، اُس پر اُسے فخر ہے۔

کینیڈا کے وزیر اعظم اسٹیفن ہارپر نے 2008ء میں اعلان کیا تھا کہ ملکی دستے اس سال یعنی 2011ء میں افغانستان سے وطن واپس لوٹ جائیں گے۔ مئی میں پاکستان میں اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد ہارپر نے افغانستان میں اپنے فوجی دستوں کے ساتھ ایک ملاقات میں کہا تھا کہ اُن کے خیال میں جنگوں سے تباہ حال یہ ملک ’اب مزید عالمگیر دہشت گردی کا ذریعہ نہیں رہا‘۔

اسی دوران کینیڈا نے اعلان کیا ہے کہ فوجی دستوں کے انخلاء کے باوجود افغانستان کے لیے غیر فوجی امداد کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس