1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

رواں سال کے آخر تک عراق سے تمام امریکی فوجیوں کی واپسی

امریکی صدر باراک اوباما نے جمعہ 21 اکتوبر کو واشنگٹن میں کہا کہ امریکی فوجی عراق میں طویل جنگ ختم کرتے ہوئے رواں سال کے آخر تک اس عرب ملک سے نکل جائیں گے۔

اوباما عراق سے فوجیوں کی واپسی کا اعلان کرتے ہوئے

اوباما: فوجیوں کی واپسی کا اعلان

ابھی بھی چالیس ہزار امریکی فوجی عراق میں موجود ہیں۔ عراق میں تقریباً 9 سال تک جاری رہنے والی جنگ، چار ہزار چار سو سے زیادہ امریکی فوجیوں اور دَسیوں ہزار عراقیوں کی ہلاکت اور سینکڑوں ارب ڈالر کے اخراجات کے بعد وائٹ ہاؤس میں اوباما نے کہا کہ اس سال کے آخر تک آخری امریکی فوجی بھی اپنا سر فخر سے بلند کرتے ہوئے عراق کو چھوڑ دے گا۔

اوباما نے کہا:’’آج مَیں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ وعدے کے مطابق عراق میں موجود ہمارے باقی ماندہ دستے سال کے آخر تک وطن واپس آجائیں گے۔ تقریباً 9 برسوں کے بعد عراق میں امریکہ کی جنگ اپنے اختتام کو پہنچ جائے گی۔‘‘ اوباما عراق میں امریکہ کی اس غیر مقبول جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے صدر منتخب ہوئے تھے اور صدارتی امیدوار کے طور پر اُنہوں نے عراق سے تمام امریکی فوجی واپس بلا لینے کا وعدہ کیا تھا۔

آج کل عراق میں چالیس ہزار امریکی فوجی موجود ہیں، جو اب وہاں سے انخلاء کی تیاریوں میں مصروف ہیں

آج کل عراق میں چالیس ہزار امریکی فوجی موجود ہیں، جو اب وہاں سے انخلاء کی تیاریوں میں مصروف ہیں

خبر رساں ادارے روئٹرز کے ایک تجزیے کے مطابق واشنگٹن اور بغداد حکومتوں کے مابین کم از کم تین ہزار امریکیوں کے فوجی تربیت کاروں کے طور پر عراق ہی میں رکھنے پر بات چیت چل رہی تھی تاہم یہ مذاکرات ان فوجیوں کو قانونی کارروائی سے مامونیت کے مسئلے پر تعطل کا شکار ہو گئے۔ بہت سے عراقی لیڈر استحکام کی ضمانت کے طور پر ایک مختصر عبوری عرصے کے لیے ان امریکی فوجیوں کی موجودگی کے حق میں تھے تاہم وزیر اعظم نوری المالکی کے پاس اتنی سیاسی حمایت نہیں ہے کہ وہ ان امریکی فوجیوں کی قانونی مامونیت کے مسئلے کو پارلیمنٹ سے منظور کروا سکیں۔

اگرچہ عراق میں پُر تشدد واقعات میں کافی کمی ہوئی ہے لیکن سنی باغیوں اور اُن کی حریف شیعہ ملیشیا کے ارکان کے حملے ابھی بھی روزمرہ معمول کا حصہ ہیں۔ دوسری جانب المالکی کی مخلوط حکومت میں شامل جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہیں اور اسی لیے کوئی مؤثر حکومت تشکیل دینے کے قابل نہیں ہیں۔

ابھی بھی عراق میں تقریباً چالیس ہزار امریکی فوجی خدمات سرانجام دے رہے ہیں لیکن جنگی کارروائیوں میں اُن کی شرکت کا سلسلہ گزشتہ سال ہی ختم ہو گیا تھا۔ آج کل اُن کی ذمہ داریوں کے ایک بڑے حصے کا تعلق عراقی سکیورٹی فورسز کو معاونت فراہم کرنے سے ہے۔

روئٹرز کے تجزیے کے مطابق عراق کے کئی حلقے جیسے کہ شیعہ لیڈر مقتدیٰ الصدر امریکی فوجیوں کے انحلاء کا خیر مقدم کریں گے تاہم شمالی عراق کے کرد رہنماؤں کو یقیناً تشویش ہو گی، جن  کے عراقی عرب رہنماؤں کے ساتھ اختلافات نمایاں طور پر سامنے آتے رہے ہیں۔

رپورٹ: خبر رساں ادارے / امجد علی

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس