1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

رواں برس کے دوران ایک لاکھ سے زائد افغان شہری بے گھر

اقوام متحدہ کے مطابق سن 2017 کے ابتدائی چار مہینوں میں ایک لاکھ سے زائد افغان شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب افغانستان میں امریکی فضائی حملے سہ گنا کر دیے گئے ہیں۔

آج پیر انتیس مئی کو جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ خانہ جنگی کے شکار ملک افغانستان میں رواں برس کی پہلی چوتھائی میں ایک لاکھ تین ہزار سے زائد افراد کو بے گھر ہونا پڑا ہے۔ ان افراد کے بے گھر ہونے کی وجہ افغان فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں شدت اور اضافہ ہے۔ یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے ادارے OCHA نے جاری کی ہے۔

اس ادارے کے مطابق بے گھری کی ایک وجہ شورش زدہ علاقوں میں مسلسل لڑائی اور جھڑپوں میں تسلسل ہے۔ اس کے علاوہ مسلسل جنگی حالات کی وجہ سے غربت میں بھی افزائش ہوئی ہے۔ غربت سے تنگ لوگ بھی روزگار کی تلاش میں شورش زدہ علاقوں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

ادارے کے مطابق کئی شہروں میں سکیورٹی کی صورت حال خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے اور یہ علاقے جنگجوؤں کے محفوظ ٹھکانے بنتے جا رہے ہیں۔ دارالحکومت کابل کو وقفے وقفے سے عسکریت پسند اپنے حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ حملہ کرنے والوں کا تعلق طالبان اور جڑیں پکڑتی ’اسلامک اسٹیٹ‘ سے ہے۔ رواں برس بے گھر ہونے والوں میں بیالیس فیصد کا تعلق افغانستان کے ان شمالی علاقوں سے ہے، جو ماضی میں انتہائی پر امن خیال کیے جاتے تھے۔

Afghanistan Flüchtlinge in Helmand und Kabul (DW/H. Sirat)

رواں برس زیادہ تر بے گجر ہونے والے شمالی افغان علاقوں سے ہوئے ہیں

دوسری جانب امریکی فوج کے ترجمان بِل سالیوان نے نیوز ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا کہ افغانستان میں طالبان اور ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے دہشت گردوں کو ہدف بنانے کے لیے فضائی حملوں کو سہ گنا کر دیا گیا ہے۔ سالیوان کے بقول رواں برس جنوری سے اپریل کے درمیان نو سو فضائی حملے کیے گئے جب کہ گزشتہ برس انہی مہینوں میں ایسے حملوں کی تعداد تین سو تھی۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ سابق صدر باراک اوباما نے افغانستان میں متعین امریکی فوج اور نیٹو کے ریسکیو سپورٹ مشن کے کمانڈر جنرل جان نکلسن کو سن 2017 میں جنوری سے جون کے درمیانی عرصے میں زیادہ فضائی حملے کرنے کےخصوصی اختیارات تفویض کیے تھے۔ ان حملوں میں عام شہری ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔