1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

روانڈا دولت مشترکہ کا رکن بن گیا

ٹرینیڈاڈ منعقدہ دولت مشترکہ کے تین روزہ سربراہی اجلاس کے اختتام پر تمام رکن ملکوں نے روانڈا کو اس تنظیم میں شامل کرنے پر اتفاق کیا جبکہ فجی کی فوجی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

default

برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون

اس اجلاس میں رکن ممالک نے متفقہ طور پر ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے ایک منصوبے پر بھی اتفاق کیا۔ تمام رکن ممالک نےمتفقہ طور پرروانڈا کو دولت مشترکہ میں شامل کر لیا ہے۔ یوں اب اس بلاک میں شامل ممالک کی تعداد 54 ہو گئی ہے۔ ماضی میں جرمنی اور پھر بیلجیئم کی نوآبادی ، روانڈا دولت مشترکہ کا رکن، دوسرا ایسا ملک ہے جو کبھی بھی برطانوی نوآبادی نہیں رہا۔ اس سے قبل چودہ سال پہلے دولت مشترکہ کا رکن بننے والا موزمبیق وہ پہلا ملک تھا جوکبھی بھی سلطنت برطانیہ کا حصہ نہیں رہا۔

روانڈا کے وزیر خارجہ نے اس رکنیت کو ایک خوش کن پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب روانڈا بھی دیگر رکن ممالک کی طرح سیاسی، اقتصادی، معاشرتی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں دولت مشترکہ میں شامل باقی ریاستوں کے شانہ بشانہ ہو گا۔

Putsch auf den Fidschi-Inseln Soldat vor dem Parlament

اجلاس کے دوران فجی میں فوجی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا

ٹرینیڈاڈ اور ٹوبیگو میں ہونے والے اس تین روزہ اجلاس میں تمام رکن ممالک نے فجی کی فوجی حکومت پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کا خیال رکھتے ہوئے جلد از جلد ملک میں جمہوری نظام بحال کرے۔ ستمبر سن 2006 میں فجی میں فوج نے جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں دولت مشترکہ میں فجی کی رکنیت معطل کر دی گئی تھی۔ اس اجلاس کےحتمی اعلامیے میں تمام رکن ممالک نے فجی کی عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ فورا جہموری نظام کی بحالی کے لئے موثر اقدامات کرے۔ دولت مشترکہ کے سربراہان نے سن 2010 کی کامن ویلتھ گیمز میں بھی فجی کی رکنیت معطل رکھنے پر اتفاق کیا اور کہا کہ یہ فیصلہ اس بلاک کی اقدار کے مطابق ہے۔

اس اجلاس میں دولت مشترکہ کے ملکوں نے اربوں مالیت کے اُس منصوبے کی بھی بھر پور حمایت کی، جس کے تحت ترقی پذیر ملک ماحولیاتی تبدیلیوں اور سبز مکانی گیسوں کے اخراج میں کمی لائیں گے۔ اس مقصد کے لئے برطانوی اور فرانسیسی رہنماؤں نے سالانہ دس بلین ڈالر مالیت کا ایک منصوبہ بھی تجویز کیا، جو آئندہ سال شروع ہو کر سن 2012 ء تک جاری رہے گا۔ دولت مشترکہ کے کئی ممالک جزائر پر مشتمل ہیں اور انہیں سمندروں کی بڑھتی ہوئی سطح سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ اس اجلاس میں شریک آسٹریلیا کے وزیراعظم کیون رڈ نے کہا کہ دولت مشترکہ کے رکن ممالک ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق مسائل سے نمٹنے کے لئے یک زبان ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’یہ ایک زبان دنیا سے کہہ رہی ہے، ہم دنیا کی کل آبادی کے ایک تہائی حصے، اور دولت مشترکہ کے رکن ملکوں کے طور پر، اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف ایکشن کا وقت آ گیا ہے‘‘۔

تمام رکن ممالک نے کوپن ہیگن کانفرنس کے دوران ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئےٹھوس اقدامات کرنے پر بھی زور دیا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM