1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

رنگین مزاجی نے مشکل میں ڈال دیا

اطالوی وزیراعظم سلویو بیرلسکونی کو اب ایک نئے سیکس اسکینڈل کا سامنا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک نائٹ کلب میں ایک سترہ سالہ لڑکی کے ساتھ پیسے دے کر جسمانی روابط قائم کئے، جو اٹلی میں قانوناً جرم ہے۔

default

اطالوی شہر میلان کے دفتر استغاثہ کے مطابق ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں، جن سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اطالوی وزیراعظم نے اپنے پرتعیش فلیٹ میں جسم فروش خواتین کے ساتھ وقت گزارا ہے۔ ساتھ ہی میجسٹریٹ نے بیرلسکونی اور مراکشی نژاد روبی نامی لڑکی کے تعلقات کے بارے میں تحقیقات کا بھی حکم دیا ہے۔ وکیل استغاثہ نے اپنی رپورٹ میں روبی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ متعدد لڑکیاں بیرلسکونی کی نجی محفلوں میں شرکت کرتی تھیں اور انہیں ان کا میلان والا اپارٹمنٹ مفت استعمال کرنے کی اجازت تھی۔

18سالہ روبی کا کہنا تھا کہ وہ خود بھی فروری سے مئی 2010ء تک یہ فلیٹ استعمال کرتی رہی ہیں۔ استغاثہ کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ روبی کے بقول 74 سالہ سلویو بیرلسکونی انہیں بار بار فون کر کہتے رہے ہیں، ’’روبی تمہیں جتنی رقم چاہیے لے لو، اگر تم خاموش رہو تومیں تمہیں سونے میں تول دوں گا‘‘۔

Partygirl Ruby

فروری سے مئی 2010ء تک میں بھی بیرلسکونی کا فلیٹ استعمال کرتی رہی ہوں، روبی

گزشتہ ہفتے ہی دفتر استغاثہ نے اطالوی وزیراعظم کے ایک قریبی ساتھی جیوسیپی اسپینل کے دفتر پر چھاپہ مارنے کا حکم دیا تھا۔ جیوسیپی وزیراعظم کی چھٹیوں کا پلان بناتے ہیں۔ پولیس یہ چھاپہ مارنے میں اس وجہ سے ناکام رہی کہ ان کے پاس تلاشی کا صحیح وارنٹ نہیں تھا۔ بیرلسکونی نے حال ہی میں کہا تھا کہ بیوی سے علیحدگی کے بعد نئے پارٹنرکے ساتھ ان کے تعلقات بہت سنجیدہ نوعیت کے اور بہت مستحکم ہیں۔ بیرلسکونی کے دیگر خواتین کے ساتھ روابط کی خبریں منظر عام پر آنے کے بعد ہی ان کی اہلیہ نے 2009ء میں علیحدگی اختیارکر لی تھی۔

اطالوی وزیراعظم اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ خوبصورت خواتین ان کی کمزوری ہیں۔ اطالوی ٹیلی وژن پر دکھایا گیا ہے کہ کس طرح سلویو بیرلسکونی اپنا دفاع کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ یہ ان کے خلاف ایک سازش ہے اور انہوں نے کبھی پیسے دے کر جنسی روابط قائم نہیں کئے۔ ’’پیسے کے عوض خواتین کو بلانا انتہائی فضول بات ہے۔ میں نے آج تک زندگی میں ایسا نہیں کیا۔ میری نظرمیں یہ بہت ہی گری ہوئی حرکت ہے‘‘

گزشتہ دنوں ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں چھپی تھیں کہ بیرلسکونی اپنی نجی محفلوں میں پیسے دے کر خواتین کو بلاتے تھے۔ اس حوالے سے ویڈیوز بھی منظر عام پر آئیں، جن میں اِن پارٹیز میں ہونے والی نازیبا حرکات کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے بیرلسکونی کا کہنا تھا کہ ’’میری نئی ساتھی اکثر محفلوں میں میرے ساتھ ہوتی ہیں۔ تویہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہاں وہ خواتین بھی موجود ہوں، جنہیں پیسے دے کر بلایا گیا ہو‘‘۔

Flash-Galerie Berlusconis Skandale Frauen Party

دیگر خواتین کے ساتھ روابط کی خبریں منظر عالم پر آنے کے بعد ہی ان کی اہلیہ نے 2009ء میں علیحدگی اختیارکر لی تھی

اطالوی وزیراعظم نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ بیوی سے علیحدگی کے بعد وہ کونسا سنجیدہ رشتہ ہے، جس کو وہ خفیہ رکھے ہوئے ہیں۔ سلویو بیرلسکونی نے ابھی تک اپنے کسی بھی اسکینڈل پر معافی نہیں مانگی بلکہ انہوں نے یہ کہہ کر بات ختم کر دی کہ وہ ’پارسا‘ شخصیت نہیں ہیں۔

لگتا ہے کہ اطالوی وزیراعظم سلویو بیرلسکونی اور اسکینڈلز کا ایک دوسرے کا بڑا گہرا ربط ہے۔ اٹلی کی طاقتور ترین شخصیت کہلانے والے بیرلسکونی کبھی مافیا سے روابط توکبھی اختیارات کے ناجائز استعمال کی وجہ سے خبروں کی زینت بنتے رہے ہیں۔ اب گزشتہ کچھ عرصے سے ان کی رنگین مزاجی کی وجہ سے ذرائع ابلاغ ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس