1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

رنگا رنگ قومی کتاب میلہ: کتاب سے دوستی مزید بڑھتی ہوئی

پاکستان میں نیشنل بک فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام اسلام آباد میں جاری قومی کتاب میلے کا اتوار کے روز دوسرا دن تھا۔ بائیس تا چوبیس اپریل اس تین روزہ آٹھویں قومی کتاب میلے کا اہتمام اسلام آباد کے پاک چائنہ سینٹر میں کیا گیا ہے۔

اس نیشنل بک فیسٹیول میں بڑی تعداد میں کتاب دوست شہریوں کی شرکت، دانشوروں اور ادیبوں کی موجودگی اور کئی ادبی نشستوں کے اہتمام نے اس اجتماع کو ایک طرف اگر بہت پرکشش بنا دیا تو دوسری طرف یہی حقائق پاکستانی معاشرے میں بڑھتی ہوئی کتاب دوستی اور کتاب بینی کا پتہ بھی دیتے ہیں۔

اس حوالے سے ڈی ڈبلیو نے اکادمی ادبیات پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر محمد قاسم بھوگیو کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو میں جب ان سے یہ پوچھا کہ آج کل پاکستان میں کس طرح کا ادب تخلیق ہو رہا ہے، تو انہوں نے کہا، ’’آج کل پاکستان میں ویسا ہی ادب تخلیق ہو رہا ہے، جیسے پاکستان کے حالات ہیں۔ کچھ لوگوں نے ادب کو گلیمر بنا دیا ہے، کچھ نے کمرشل بنا دیا ہے۔ اور پھر یہ جو میلے لگتے ہیں، یہ کتابوں کے میلے ہیں، ادبی میلے نہیں۔ لیکن ایسے کتاب میلے بھی بہرحال اجتماعی شعور و آگہی کی جانب ایک مثبت قدم تو ہیں۔‘‘

Pakistan Islamabad - National Book Festival (Privat)

اکادمی ادبیات پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر قاسم بھوگیو

کیا پاکستان میں کتاب بینی کا رجحان کم ہوا ہے؟ اس بارے میں ڈاکٹر قاسم بھوگیو کا کہنا تھا، ’’یہ بالکل غلط تاثر ہے کہ کتاب دوست کم ہوتے جا رہے ہیں۔ لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ سنجیدگی سے پڑھنے والوں کی تعداد کچھ کم ہوئی ہو۔ لیکن اب پہلے کی نسبت زیادہ پڑھا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا نے بھی مطالعے کا رجحان بڑھایا ہے۔ ڈیجیٹل مواد بھی پڑھا جا رہا ہے۔ آپ روایتی کتاب نہ پڑھیں، ای بک پڑھ لیں، بات تو ایک ہی ہے۔‘‘

پاکستان میں کتابی صنعت کے حوالے سے اکادمی ادبیات پاکستان کے سربراہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پبلشرز خوشحال ہوتے جا رہے ہیں لیکن ادیبوں اور مصنفین کو وہ ادائیگیاں نہیں کی جاتیں، جن کے وہ حقدار ہوتے ہیں۔ پھر بھی مجموعی طور پر کتابی صنعت ترقی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ابھی کل ہی انٹرنیشنل بک فاؤنڈیشن کی رپورٹ آئی ہے کہ انہوں نے ایک سال میں تین کروڑ کتابیں فروخت کیں، تو آخر لوگ کتابیں پڑھ رہے ہیں تو کتابیں فروخت ہو رہی ہیں ناں۔‘‘

اس میلے میں جن بہت سی کتابوں کی رونمائی ہوئی، ان میں زاہدہ حنا کی کتاب The House of Loneliness بھی شامل تھی، جسے بہت پذیرائی ملی۔ تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے زاہدہ حنا نے کہا کہ ادب زندگی کا دوسرا نام ہےاور کتابیں اور کہانیاں درحقیقت زندگی کے حقائق کا سامنا کرنے ہی کا نام ہے۔ زاہدہ حنا کی مشہور تصانیف میں ’جنوں رہا نہ پری رہی‘ اور افسانوں کے مجموعوں میں ’قیدی سانس لیتا ہے‘ اور ’رقصِ بسمل‘ بھی شامل ہیں۔

اسلام آباد میں قومی کتاب میلہ دو ہزار سترہ میں شرکاء کی خاصی بڑی تعداد مختلف آپ بیتیاں اور سوانح خریدتی نظر آئی۔ اردو کے معروف ادیب اور شاعر حارث خلیق سے جب ڈی ڈبلیو نے پوچھا کہ پاکستان میں آپ بیتیاں بہت پڑھی جاتی ہیں فکشن کے مقابلے میں، تو حقیقی زندگی میں قارئین کی ان میں دلچسپی کا راز کیا ہے، تو انہوں نے کہا، ’’آپ بیتیاں اگر اچھی لکھی گئی ہوں تو پوری دنیا ہی میں بڑے شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں ان کے زیادہ پڑھے جانے کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ ہمیں باقاعدہ تاریخ پڑھائی نہیں جاتی تو لوگ ماضی میں ہونے والے اُن عوامل اور محرکات سے لاعلم رہتے ہیں جو کسی بھی طرح کے واقعات کے پیچھے کارفرما ہوتے ہیں۔ چاہے وہ بڑے واقعات ہوں یا چھوٹے۔ چنانچہ جن کو دلچسپی ہوتی ہے تاریخ سے، آپ بیتیاں پڑھ کر جان لیتے ہیں۔ چاہے وہ سرکاری افسروں کی لکھی سوانح ہوں یا فوجی جرنیلوں کی۔ دوسری وجہ لوگوں کا لوگوں میں دلچسپی لینا، یعنی انسانی تجسس کا عنصر ہے۔ یعنی یہ کہ فلاں کی زندگی میں کیا ہوا تھا؟ یہ بات لوگوں کو آپ بیتی پڑھنے پر مجبور کرتی ہے۔ مثال کے طور پر خالد راجہ اور راؤ فرمان علی کو پڑھ کر پتہ چلتا ہے کہ 1971ء کی جنگ میں کیا ہوا تھا۔ ورنہ نصابی کتابوں میں تو یہ موضوع پڑھایا ہی نہیں جاتا۔‘‘

حارث خلیق نے اس تاثر کو بھی سراسر غلط قرار دیا کہ پاکستان میں نوجوان طبقہ کتب بینی کی طرف مائل نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا، ’’بزرگ خود کون سا پڑھتے ہیں، جو بچوں کو کہتے ہیں؟ میری رائے میں آج کل نوجوانوں کا ایک بڑا حصہ کتب بینی کی طرف مائل ہے، اگر اسے رسائی حاصل ہے تو۔ وہ جو اس طرف مائل نہیں، انہیں بھی اگر رسائی ملے تو وہ بھی ضرور پڑھنے لگیں گے۔‘‘

اسلامی کتب کے ایک اسٹال پر ایک خاتون نے، جو مولانا اشرف تھانوی کی کتاب بہشتی زیور خرید رہی تھی، ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ وہ کافی عرصے سے یہ کتاب ڈھونڈ رہیں تھیں جو آج انہیں اس قومی کتاب میلے میں مل گئی۔ انہوں نے کہا، ’’ایسے میلے ہمیشہ ہونے چاہییں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہو سکیں۔‘‘

اسلام آباد کے اس نیشنل بک فیسٹیول میں ہر سال باقاعدگی سے شرکت کرنے والے ایک کتاب دوست شہری حاکم خان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ وہ ہر سال اسلام آباد کے اس کتاب میلے میں شرکت کے لیے پشاور سے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لیے یہ بات اہم ہے کہ ایک چھت کے نیچے درجنوں اشاعتی ادارے موجود ہوتے ہیں جو اپنی نئی اور پرانی ہزاروں مطبوعات رعایتی نرخوں پر مہیا کرتے ہیں۔ انہوں نے حمودالرحمان کمیشن رپورٹ کا مکمل ٹیکسٹ خریدتے ہوئے کہا کہ یہ ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے کی غیر اصلاح شدہ دستاویز ہے، جس کی انہیں بہت عرصے سے تلاش تھی۔ ’’ابھی میری تلاش میں بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو کی سوانح عمری اور پاکستان کے معروف کمیونسٹ سیاستدان جام ساقی کی سوانح عمری بھی شامل ہیں، جو مجھے امید ہے کہ یہاں سے مل جائیں گی۔‘‘

قومی کتاب میلے میں ایک منفرد اسٹال جو بہت سے لوگوں کی توجہ کا مرکز رہا، وہاں دنیا کے کئی مشہور اور ابھی تک زندہ یا انتقال کر جانے والے ایسے مصنفین کی کتابوں کے دستخط شدہ پہلے ایڈیشن کی کاپیاں موجود تھیں، جن میں Margret Atward، Gore Vidal اور Arther C. Clark جیسے کئی نام شامل تھے۔ لیکن یہ کتابیں زیادہ تر بہت زیادہ قیمتوں کے باعث عام قارئین کی دسترس سے باہر تھیں۔

اپنی فیملی کے ساتھ اس میلے کی سیر کو آنے والی ایک ڈاکٹر بشریٰ اختر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ انہیں ایسے میلے بے حد پسند ہیں۔ ’’ایسے ایونٹس ہوتے رہنے چاہییں، جن میں ملک بھر سے ہر طرح کے پبلشرز شرکت کریں۔ یوں وقت بھی بچتا ہے اور ملک کے نامور ادیبوں اور دانشوروں سے ملاقات بھی ہو جاتی ہے، جو عام طور پر ممکن نہیں ہوتی۔‘‘