1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

رمضان کے دوران فیس بک کے استعمال میں حیران کن اضافہ

فیس بک کی طرف سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق رمضان کے دوران مسلم ممالک، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں، فیس بک کے استعمال میں حیران کن اضافہ ہو جاتا ہے اور مسلم صارفین کروڑوں گھنٹے زیادہ صرف کرتے ہیں۔

فیس بک کی طرف سے جاری ہونے والے اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ رمضان کا مہینہ کاروباری حضرات کے لیے بہترین مہینہ ہے کیوں اس ماہ میں مسلم سوشل میڈیا صارفین کا رویہ تبدیل ہو جاتا ہے اور یہ کاروباری اداروں کے لیے نئے صارفین حاصل کرنے کا بہترین موقع ہو سکتا ہے۔

فیس بک آئی کیو کی طرف سے جاری کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق صرف مشرق وسطیٰ کے صارفین رمضان میں 57 ملین سے زائد گھنٹے فیس بک پر  اضافی صرف کرتے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ رمضان میں فیس بک کا استعمال تقریبا پانچ فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

فیس بک ’بزنس انسائٹس‘ کے اعداد و شمار کے مطابق  244 ملین مسلم افراد رمضان کے مہینے کو اِس سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر سیلیبریٹ کرتے ہیں اور ان میں سے 86 فیصد کا تعلق مینا ریجن (مشرق وسطی، شمالی افریقی)  سے ہوتا ہے۔ رمضان کے دوران سب سے زیادہ فیس بک کا استعمال رات کو کیا جاتا ہے اور اس دوران سب سے زیادہ صارفین رات تین بجے کے قریب موجود ہوتے ہیں۔

اسی طرح فیس بک کے ہی دوسرے پلیٹ فارم انسٹاگرام کے اعداد و شمار کے مطابق رمضان کے مقدس مہینے میں رابطوں کا سلسلہ بڑھ جاتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس مہینے کے دوران فیس بک اور انسٹاگرام دونوں پر ہی رمضان فیشن، کھانا پکانے، ہدایات و خیالات، کاروں اور گھروں کے بارے میں بات چیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

ایک سروے کے مطابق رمضان کے مہینے میں متحدہ عرب امارات کے 76 فیصد صارفین نئے کپڑے خریدنے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ اسی طرح انسٹاگرام بھی تحائف کی خریداری پر اثرانداز ہوتا ہے۔ سروے میں شامل سعودی عرب کے 69 فیصد صارفین کے مطابق وہ کوئی بھی تحفہ خریدنے کا آئیڈیا انسٹاگرام سے حاصل کرتے ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات کے 70 فیصد صارفین کوئی بھی تحفہ خریدنے کے لیے فیس بک کے آئیڈیاز پر انحصار کرتے ہیں۔

اسی طرح فیس بک پر افطاری سے متعلق دیے جانے والے اشتہارات کو بھی خوب استعمال کیا جاتا ہے اور گھر پر افطاری کے لیے کھانے منگوانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔