1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

رمضان میں پیغمبر اسلام کا چوغہ دیکھنے والے سیاحوں کی بھیٹر

استنبول کی ایک مسجد میں پیغمبر اسلام کا صدیوں پرانا جبہ (چوغہ) دیکھنے کے لیے آنے والے خواتین و حضرات کی علیحدہ علیحدہ طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ شیشے کے ایک کیس میں رکھا گیا یہ مقدس چوغہ کپاس اور ریشم سے بنا ہوا ہے۔

ترک زبان میں اسے ہیرکائے شریف ( مقدس چوغہ) کہا جاتا ہے اور اسے سترہویں صدی میں استنبول میں لایا گیا تھا۔ اس وقت سعودی عرب سمیت اسلامی دنیا کے زیادہ تر حصوں پر سلطنت عثمانیہ کی حکومت تھی۔

ہر سال رمضان کے مہینے میں پیغمبر اسلام کا یہ چوغہ خاص طور پر نمائش کے لیے استنبول کی ہیرکائے شریف مسجد میں رکھ دیا جاتا ہے، جسے دیکھنے کے لیے لاکھوں سیاح آتے ہیں۔ وہاں پر موجود ایک 78 سالہ خاتون نعمت شاہین کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’میں یہاں گزشتہ برس بھی آئی تھی اور اگر اللہ نے چاہا اور میں زندہ رہی تو آئندہ برس بھی آؤں گی۔‘‘

وہاں پر موجود 76 سالہ عمر رسیدہ خاتون نازیہ پولات کا آنسو بہاتے ہوئےکہنا تھا کہ ان کے اس مقام پر آ کر جذبات ایسے ہوتے ہیں، جیسے لوگوں کی مکہ جا کر ہو جاتے ہیں، ’’میں یہاں ہر سال آتی ہوں اور میری ایسی ہی کیفیت ہوتی ہے۔ خدا کرے میرے دل کی یہ کیفیت برقرار رہے۔‘‘

یہ چوغہ ساتویں صدی میں اویس قرنی کے سُپرد کیا گیا تھا، جو پیغمبر اسلام سے ملاقات کرنے کی خواہش رکھتے تھے لیکن یمن میں اپنی بیمار والدہ کی دیکھ بھال کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکے تھے۔ پیغمبر اسلام نے اویس قرنی کی کہانی سے متاثر ہو کر یہ چوغہ اپنے صحابہ کے ہاتھوں یمن میں بطور تحفہ انہیں بجھوایا تھا۔

استنبول کے مفتی حسن کامل یلماز کا مزید کہنا تھا کہ اویس قرنی کے بچے نہیں تھے اور پھر یہ مقدس چوغہ ان کے رشتہ داروں نے محفوظ کیا تھا۔ سن 1611ء میں پہلے عثمانی سلطان احمد اس مقدس چوغے کو کوشاداسی سے استنبول لے آئے تھے۔ کوشاداسی ترکی کے مغرب میں واقع ایک علاقہ ہے، جہاں اویس قرنی کے رشتہ دار آباد تھے۔ مفتی حسن  کے مطابق، ’’تب سے یہ ہیرکائے شریف (مقدس چوغہ) استنبول میں ہے۔‘‘

سن 1851ء میں سلطان عبدالمجید نے استنبول کے فاتح نامی علاقے میں ہیرکائے شریف مسجد تعمیر کی تاکہ اس مقدس چوغے کو محفوظ رکھا جا سکے۔ مفتی حسن کا کہنا تھا کہ اس کی صرف دو چابیاں ہیں، ایک فاؤنڈیشن کے پاس ہے اور دوسری اویس قرنی کے خاندان کے پاس۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مقدس لباس ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل کر دیا جاتا ہے اور موجودہ نسل کے سربراہ بارس سمیر ہیں اور یہ اویس قرنی کے اس رشتہ دار کی 59ویں نسل ہے، جسے یہ مقدس چوغہ پہلی مرتبہ دیا گیا تھا۔

بارس سمیر کا اس حوالے سے کہنا تھا، ’’یہ ہمارے لیے ایک بہت ہی قابل احترام فریضہ ہے اور ہم اسے ادا کر کے بہت خوش بھی ہیں کہ ہمارے پاس ایسی ذمہ داری ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’یہ ایک مشکل کام بھی ہے، یہ ایک بھاری ذمہ داری ہے، اخلاقی طور پر بھی اور معاشی طور پر بھی۔‘‘

یہ مقدس چوغہ دیکھنے کے لیے وہاں لائن میں کھڑے اور روایتی اسلامی ٹوپی پہنے ہوئے ایک بوڑھے شخص کا کہنا تھا، ’’میری زندگی میں اس سے قیمتی چیز کیا ہو سکتی ہے کہ میں مرنے سے پہلے یہ مقدس چوغہ دیکھ رہا ہوں۔‘‘

وہاں موجود ایک اڑتالیس سالہ خاتون ظہرا کا کہنا تھا کہ اس پر ایک نظر ڈال لینے سے ہی مسلمان کا دل خوشی سے باغ باغ ہو جاتا ہے، ’’میرے خیال سے یہ ہمیں پیغمبر اسلام سے مزید قریب کر دیتا ہے۔‘‘ ہر سال دنیا بھر سے دس لاکھ سے زائد مسلمان سیاح اس مقدس چوغے کو دیکھنے کے لیے استنبول آتے ہیں۔ سمیر بتاتے ہیں، ’’لوگ افریقہ، امریکا، مشرق بعید اور سائبیریا سے اس مقدس چوغے کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ سیاحوں کی تعداد ایک ملین سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ لیلہ القدر میں لوگوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے کیوں کہ اسے اس رات کی صبح تک ہی نمائش کے لیے رکھا جاتا ہے۔‘‘

وہاں ملائیشیا سے آئے ہوئے 49 سالہ لقمان حکیم بھی اپنے بیس ساتھیوں کے ساتھ موجود ہیں۔ مسجد سے باہر لقمان حکیم کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’یقیناﹰ اس سے آپ پیغمبر اسلام سے مزید قریب ہو جاتے ہیں، ہم خوش ہو جاتے ہیں، یہ احساس پیدا ہوتا کہ ہمیں کچھ کرنا ہے، ہمیں محبت کو پھیلانا ہے، ان تمام تعلیمات اور اچھائیوں کو فروغ دینا ہے، جو پیغمبر اسلام اس انسانیت کے لیے لائے ہیں۔‘‘

سمیر کا کہنا ہے کہ یہ نمائش پیغمبر اسلام اور اہل ایمان کے درمیان ایک طرح سے مقام ملاقات ہے۔