1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

رمضان تک میں ٹی وی ریٹینگز کی دوڑ

پاکستان میں ماہ رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی ٹی وی چینلز پر خصوصی نشریات کا آغاز ہو جاتا ہے۔ زیادہ اشتہارات لینے اورناظرین کو متوجہ کرنے کی دوڑ میں ٹی وی چینلز ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں رہتے ہیں۔

کراچی کی ایک نجی یونیورسٹی میں ابلاغ عامہ کے استاد پروفیسر انعال اللہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں ٹی وی چینل کی ابتدا کے بعد رمضان کے مہینے میں ناظرین حمد باری تعالیٰ اور نعت رسول مقبول سننے کے لیے خصوصی نشریات دیکھا کرتے تھے،’’ اس وقت ان نشریات کو رمضان کے حوالے سے کوئی خصوصی نام نہیں دیا جاتا تھا اور نا ہی یہ سلسلہ چوبیس گھنٹے جاری رہتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ جیسے جیسے ملک میں ٹی وی چینلز کی تعداد میں اضافہ ہوا اور نشریات کا دورانیہ چوبیس گھنٹے پر محیط ہونے لگا، ویسے ہی مخصوص مہینوں میں پیش کی جانے والی نشریات کو نام دیا جانے لگا اور کس چینل کی ان نشریات کو زیادہ دیکھا جاتا ہے، اس کی بنیاد پر چینلز کی کامیابی کا دارومدار ہونے لگا۔‘‘

پروفیسرانعام کے مطابق یہ ہی وجہ ہے کہ خوبصورتی سے سجائے گئے اسٹیج، عظیم الشان سیٹ، لاکھوں روپے مالیت کے انعامات کے انبار، مذہبی شخصیات اور شوبز کے ستاروں سے سجی نشریات کا سلسلہ گزشتہ چند برسوں میں رمضان کے مہینے میں خصوصی اہتمام کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔

میڈیا ہاوسز سے تعلق رکھنے والے افراد کے مطابق رمضان کی ان نشریات کے دوران سب سے زیادہ مقبولیت پروگرام کے اس خاص حصے یا سیگمینٹ کو حاصل ہورہی ہے جس میں ہزاروں روپوں کے انعامات پروگرام میں شریک مہمانوں کو مختلف کھیل کھیلوں میں حصہ لینے کے عوض دیے جاتے ہیں۔ ان میں آم کھانے کے مقابلے سے لے کر محفل میں شریک سب سے زیادہ وزنی خاتون کے درمیان مقابلہ شامل ہے۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ جس پروگرام میں انٹرٹینمنٹ یا تفریح کا عنصر سب سے زیادہ رکھا جا رہا ہے، وہ پروگرام بھی عوام میں پسندیدگی کی سند حاصل کر رہے ہیں۔ تاہم عوام کی ایک بہت بڑی تعداد کے مطابق پروگرام کی کامیابی یا ریٹنگ کی دوڑ میں نا صرف اس مقدس مہینے کی اصل روح متاثر ہو رہی ہے بلکہ پروگرام کے معیار بھی گرتے جا رہے ہیں۔

رمضان ،’ انعام گھر‘ اور ’ جیتو پاکستان‘

ملک کے ایک بڑے اور نجی ٹی وی چینل جیو کے پروگرام ’عالم آن لائن‘ سے عوام میں بے حد مقبولیت پانے والے میزبان ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کو میڈیا کے حلقوں میں رمضان ٹرانسمیشن کا بے تاج بادشاہ کہا جاتا ہے۔ 2014ء میں معمولی گیمز، عجیب و غریب حرکات و سکنات اور نہایت آسان سوالات کے جوابات دینے پر موبائل فونز، اے سی، جینریٹرز ، موٹر سائیکل اور گاڑی جیسے انعامات دینے کا سلسلہ ان کے’انعام گھر‘ نامی پروگرام سے شروع ہوا اور اسے رمضان کی ٹرانسمیشن میں بھی جاری رکھا گیا۔ اس کی مقبولیت دیکھتے ہوئے دیگر چینلز نے بھی اسی طرز کے پروگرامز اور ٹرانسمیشن کا آغاز کیا اور اس برس نامور اداکار اور میزبان فہد مصطفیٰ کا پروگرام ’جیتو پاکستان‘ سب سے زیادہ انعامات دے کر ریٹنگز کی دوڑ میں آگے نظر آرہا ہے۔ تاہم ان پروگرامز میں دکھایا جانے والا مواد عوامی حلقوں میں شدت سے زیر بحث ہے۔ اس مواد پر صرف ناظرین ہی نہیں بلکہ ان متعلقہ چینلز سے تعلق رکھنے والے افراد بھی تنقید کر رہے ہیں۔

متنازعہ مواد، پزیرائی اور تنقید

جیو چینل سے تعلق رکھنے والے ایک عہدیدار نے اپنا نام نا ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ وہ آج کل مفت انعامات دینے والے گیم شوز جن کو رمضان نشریات میں ضم کر دیا گیا ہے، رمضان کی اصل روح کے نا صرف منافی سمجھتے ہیں بلکہ ان میں دکھائے جانے والے مواد کو بھی پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتے۔ ’’ یہ خیالات صرف میرے ہی نہیں بلکہ ان چینلز پر کام کرنے والے زیادہ تر اسٹاف کے بھی ہیں تاہم ان کا اظہار کھلے عام نہیں کیا جاتا۔ یہ پروگرامز کیونکہ کسی بھی چینل کو مالی فائدہ دینے اور ریٹنگز کی دوڑ میں کامیابی کی ضمانت سمجھے جاتے ہیں اس لیے ان کی مخالفت میں کوئی بھی کھلے لفظوں میں بات نہیں کرتا۔ دوسری جانب بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو مفت انعامات کے لیے ان پروگرامز میں شرکت کی خواہش کا اظہار ہم سے کرتے رہتے ہیں۔‘‘

عہدیدار کے مطابق ان پروگرامز کو گو کہ بہت زیادہ نہیں سرہایا جاتا تاہم ایک مخصوص طبقے کے حامل دیکھنے والوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو TRP یا ریٹنگز کی جنگ کی اصل وجہ ہے،’’رمضان میں دکھائی جانے والی نشریات میں سب سے آگے ڈاکٹر عامر لیاقت کا پروگرام ہوتا ہے۔ اس برس مسلسل کئی گھنٹے چلنے والی نشریات میں افطار کے وقت سے پہلے ٹی آر پی کی رو سے کوئی بھی پروگرام ان کے ہم پلہ نہیں۔ تاہم افطاری کے بعد فہد مصطفیٰ کا جیتو پاکستان 60 فیصد ٹی آر پی کے ساتھ سر فہرست ہوتا ہے جبکہ عامر لیاقت کا پروگرام 40 فیصد ٹی آر پی کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کی وجہ جیتو پاکستان میں دیے جانے والے انعامات ہیں۔ جو پروگرام جیتنے سے زیادہ انعام دیتا ہے اس کی کامیابی کا تناسب سب سے زیادہ ہوتا ہے۔‘

نشریات اور پیمرا قوانین

بلی کی آواز نکالنا، حاضرین میں کون سب سے زیادہ وزن کا حامل ہے، میاں بیوی کے درمیان لڑائی کی اداکاری کروانا، کتے کی نقل اتارنا اور ایسی ہی لاتعداد حرکات جسے عام طور پر لوگوں کے سامنے کرنے میں شرمندگی محسوس ہو، صرف انعام کے لالچ میں کرنے اور پروگرام میں تفریح کے نام پر کسی بھی حد سے گزرنے سے احتراض نہیں کرتے۔ اس کی ایک مثال 13 جون کو پیش کیا جانے والا پروگرام ہے جس پر میزبان عامر لیاقت اور ان کے چینل جیو انٹرٹینمنٹ کو پیمرا کی جانب سے نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے ایک پروگرام کے دوران 'خودکشی کے مناظر' دکھانے پر جیو انٹرٹینٹمنٹ کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے 21 جون کو جوابدہی کا حکم جاری کردیا۔ پیمرا کے اعلامیے کے مطابق 13 جون کو پروگرام کے میزبان ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے 'ایک لڑکی کی پنکھے سے لٹک کر خودکشی کے مناظر دکھائے‘‘۔ اس منظر کو وہ خود ہی نہایت مضحکہ خیز انداز میں ادا کر رہے تھے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ خودکشی کے مناظر دکھانے، اس کی گرافکس کے ذریعے عکاسی یا دھندلی تصاویر دکھانے پر مکمل اور مستقل پابندی عائد کی گئی تھی۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ پروگرام میں میزبان نے شرکاء کو 'الٹی سیدھی حرکات' کرنے اور پنجابی میں غصہ دلانے پر اکسایا جس پر پروگرام میں شریک ایک شخص نے گالی بھی دی جو نشر کر دی گئی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ میزبان کی غیر ذمہ درانہ، غیر پیشہ ورانہ حرکات و گفتگو اور گالی نشر ہونے پر پیمرا کو متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں۔

پیمرا کے مطابق شکایت کنندگان جن میں پاک فوج کے سرونگ افسران بھی شامل ہیں، نے میزبان عامر لیاقت حسین کا پاکستان کے پرچم اور پاک فوج کی وردی کو اپنے پرومو میں کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر شدید رنج کا اظہار کیا۔ پیمرا نے جیو انٹرٹینمنٹ سے 21 جون تک اس حوالے سے جواب طلب کیا ہے جبکہ جواب موصول نہ ہونے کی صورت میں پیمرا یکطرفہ کارروائی کرنے کا مجاذ ہوگا۔ پیمرا قوانین کے تحت پروگرام کو بند یا پھر اس پر دس لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے.

جیو کے عہدیدار کے مطابق امید یہ ہی ہے کہ پیمرا کی جانب سے یہ پروگرام بند کرنے کے بجائے اس پر صرف جرمانہ عائد ہو کیونکہ ایسے پروگرامز پر لاکھ تنقید صحیح، عوام ان میں دلچسپی لیتے ہیں اور یہ ہی سب عوام دیکھنا بھی چاہتے ہیں۔

DW.COM