رمشا نابالغ ہے: طبی بورڈ | حالات حاضرہ | DW | 28.08.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

رمشا نابالغ ہے: طبی بورڈ

پاکستان میں توہین مذہب کے الزام میں قید مسیحی لڑکی رمشا کے وکیل کا کہنا ہے کہ طبی معائنے سے ثابت ہو گیا ہے کہ ان کی موکلہ نابالغ ہیں۔ رمشا کا میڈیکل ٹیسٹ اسلام آباد کے ہسپتال میں کیا گیا تھا۔

رمشا کے طبی معائنے کے لیے قائم چار رکنی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ منگل کے روز مقامی عدالت میں پیش کی گئی۔ اسی عدالت نے رمشاء کی درخواست ضمانت پر سماعت 30 اگست تک ملتوی کر دی ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان میں وزیراعظم کے انسانی حقوق سے متعلق مشیر اس امید کا اظہار کر چکے ہیں کہ نابالغ ہونے کی وجہ سے رمشاء عدالت سے بری ہو جائے گی۔

Pakistan APMA Solidaritätsmarsch

توہین مذہب کے قانون میں ترمیم کے حوالے سے نکالا گیا ایک احتجاجی جلوس

دوسری جانب اسلام آباد کے نواحی دیہات میرا جعفر میں، جہاں پر رمشا رہائش پذیر تھی کی مسیحی برادری شدید خوف کا شکار ہے۔ علاقے میں کرائے کے مکان میں قائم واحد چرچ کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ رمشا کے گھر کے ساتھ ساتھ چرچ کے دروازے پر بھی تالے پڑے ہوئے ہیں۔2 ہفتے قبل مبینہ طور پر رمشاء کی جانب سے قرآن پاک کے اوراق جلائے جانے کے واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پیدا ہو گئی تھی اور متعدد مسیحی خاندان علاقہ چھور کر جا چکے ہیں۔

پانچ بچوں کی والدہ مسیحی عقیدے کی حامل خاتون ممتاز نے چرچ بند کیے جانے کے معاملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کو پتہ ہے کہ یہاں سب مسلم ہیں، کرایے کی جگہ پر مالک کو کہہ کر چرچ بنوایا کہ چلو یہاں عبادت کریں گے اور اب یہ لوگ ختم کروا رہے ہیں کہ ہماری مسلم برادری نہیں چاہتی کہ یہاں عبادت ہو۔

ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے چرچ کی زمین کے مالک حاجی محمد نے بتایا کہ ان کا تعلق ملک برادری سے ہے اور ان پر برادری کا شدید دباؤ تھا کہ وہ چرچ کو بند کر دیں ۔ انہوں نے کہا ’’ بس کیا بولیں ان لوگوں کی مرضی ہے، کیا کریں، مجھ پر مسجد میں حملہ ہوا ہے کہ اس کا چرچ ہے اس کو برادری سے نکالیں۔ مجبوری ہے ناں برادری کی سیدھی بات ہے ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔‘‘

Pakistan Haus von Rimsha

رمشا کا تالہ بند گھر

پولیس نے رمشاء کے واقعے پر پرتشدد احتجاج کرنیوالے 150 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے تاہم کئی دن گزرنے کے بعد ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں کی جا سکی۔ جان کے خوف کے سبب علاقہ چھوڑ جانے والے مسیحی خاندانوں میں سے کچھ کی واپسی بھی ہوئی ۔ ایسے ہی ایک یوسف مسیح نے بتایا کہ وہ مقامی بااثر افراد کی یقین دہانی پر واپس آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ انہوں نے رات مسجد میں اعلان کرایا تھا کہ یہاں جتنے عیسائی ہیں وہ چلے جائیں ورنہ ہم کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ ہم خود بھاگ گئے تھے، ہم کل واپس آئے ہیں۔ ہمیں خوف پڑ گیا اور سحری کے وقت تمام لوگ چلے گئے۔ ہمیں یہاں کے ملک پپو نے واپس بلایا ہے اور کہا ہے کہ ہم آپ کے ذمہ دار ہیں لیکن ساتھ یہ بھی کہا ہے کوئی پکی یقین دہانی نہیں ہے۔ اللہ آپ کا مالک ہے، ویسے اگر آپ نے مشکل کے وقت بلایا تو ہم آ جائیں گے۔‘‘

مقامی بااثر ملک برادری سے تعلق رکھنے والے سرفراز کا کہنا ہے کہ مسیحی لڑکی کی طرف سسے قرآن کے ورق جلائے جانے سے مقامی آبادی کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذہب کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ مذہب ہماری زندگی اور روح ہے ۔ اسلام اور قرآن ہماری روح ہے ۔ اگر اس کے ساتھ ایسی کوئی بے حرمتی ہو جائے تو اللہ معاف کرے پھر اگر ہمارا سگا بھائی بھی اس معاملے میں ہو تو وہ ہمیں مذہب سے زیادہ عزیز نہیں۔‘‘

رمشاء کے معاملے پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سمیت مسیحیوں کے روحانی مرکز ویٹی کن سٹی کی جانب سے بھی پاکستان پر زور دیا گیا ہے تا کہ وہ مسیحی لڑکی کو رہا اور توہین مذہب کے قوانین پر نظرثانی کرے۔

رپورٹ: شکور رحیم

ادارت: عابد حسین