1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

رقص ایک غیر روایتی طریقہ علاج

بیماری میں عمومی طور پر آرام کا مشورہ دیا جاتا ہے تاہم علاج معالجے کے غیر روایتی طریقوں کے بھی بہت مثبت نتائج سامنے آئے ہیں مثلاً واٹر تھراپی، کلر تھراپی اور ڈانس تھراپی کے ذریعے بہت سے لوگ صحت یاب ہوچکے ہیں۔

default

امریکہ کی میسوری سٹیٹ یونیورسٹی کے محققین نے ڈانس تھراپی کے حوالے سے اپنی ریسرچ کے نتائج شائع کردئے ہیں۔ اس تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ ڈانس میں شرکت سے خاص طور پر بڑی عمر کے افراد کے اندر جسمانی توازن بہتر ہوتا ہے۔ توازن کی بہتری سے اُن کی چال اور پیدل چلنے کے عمل میں جو مثبت تبدیلی پیدا ہوئی وہ ریسرچر کے لئے باعث اطمینان ہے۔

ڈانس تھراپی کے نوجوانوں پر بھی مناسب اور عمدہ نتائج کا ادراک کیا جا چکا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ کہ نوجوان رقص و موسیقی میں بوڑھوں کے مقابلے میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ ڈانس تھراپی کے مثبت اثرات منشیات کے عادی افراد پر ظاہر ہوئے ہیں۔ نشے کی لت میں مبتلا افراد اگر باقاعدگی سے ڈانس تھراپی شروع کردیں تو اُن کے اندر قوت ارادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ نظام تنفس کے بہتر ہونے سے اُن کی دماغی حالت بہتر ہوتی چلی جاتی ہے۔

Tänzer des American Dance Center

ڈانس تھراپی میں رگوں میں خون کی رفتار کو بہتر کرتی ہے اور اس طرح تازہ آکسیجن سے بھرے ہیموگلوبن مادے کے اجزاء جب دماغ کے گرے مادے میں داخل ہوتے ہیں تو یہ اعصابی نظام کو تقویت دیتے ہیں۔

مسوری سٹیٹ یونیورسٹی کے سنکلیئر نرسنگ سکول میں پی ایچ ڈی کرنے والی ایک نرس جین کرامپے کے مطابق بوڑھے افراد کا توازن بہترہونے سے بڑھاپے کی پریشانیوں میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ بڑھاپے میں بیماریوں کے علاوہ سب سے بڑی پریشانی چلتے ہوئے توازن کو برقرار رکھنا ہوتا ہے، اس صورت میں اکثر بوڑھے افراد گر جاتے ہیں، جس سے ان کی کولہے یا پاؤں کی ہڈی فریکچر ہو جاتی ہے۔ ڈانس تھراپی کا ایک طریقہ دی لیبیڈ میتھڈ یا TLM کہلاتا ہے۔ کرامپے کے مطابق وہ بوڑھے افراد جو باقاعدگی سے دی لیبیڈ میتھڈ میں شرکت کر تے ہیں اُن کے چلنے کے انداز میں حیران کن مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔

اس طریقہ علاج کی ابتدائی تربیت دو ماہ پر محیط ہے اور اس دوران ڈانس کے اٹھارہ مختلف سیشن کرائے جاتے ہیں۔ مسوری سٹیٹ یونیورسٹی کے سنکلیئر نرسنگ سکول کی ریسرچر کرامپے نے سن دو ہزار آٹھ میں ایسا ہی ایک پروگرام سینٹ لویئس میں شروع کیا تھا جو کامیابی سے ہمکنار ہوا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM