1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

رضا ہارون، مصطفٰی کمال کے قافلے میں شامل

ایم کیو ایم کے ایک اور منحرف رہنما رضا ہارون، مصطفٰی کمال کے قافلے میں شامل ہو گئے ہیں۔ مصطفٰی کمال کے ساتھ صرف گیارہ روز میں ایم کیو ایم سے منحرف ہونے والے نامور افراد کی تعداد چھ ہوگئی ہے۔

default

مصطفیٰ کمال پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

برطانوی شہریت کے حامل رضا ہارون ایم کیو ایم کے بنیادی اراکین میں شمار کئے جاتے ہیں مگر پارٹی پر جب بھی برا وقت آیا وہ زیادہ تر لندن میں ہوتے ہیں۔ سن 1987 میں رضا ہارون ایم کیو ایم کا حصہ بنے مگر 1992 کے آپریشن سے پہلے ہی لندن چلے گئے تھے۔ سن 2005 کے بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم کی کامیابی کے بعد رضا ہارون کراچی واپس آئے رابطہ کمیٹی کے رکن بنے۔ سن 2008 کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد انہیں انفارمیشن ٹکنالوجی کی وزارت ملی لیکن جب سپریم کورٹ نے دوہری شہریت کے حوالے سے فیصلہ دیا تو رضا ہارون کو وزارت اور اسمبلی کی رکنیت سے بھی استعفٰی دینا پڑا۔

رضا ہارون آخری بار انیس مئی سن 2013 کو ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر دیکھے گئے تھے جہاں پارٹی کارکنوں کی جانب سے رہنماوں کے ساتھ بدسلوکی کا واقعہ پیش آیا اور پھر رضا ہارون نے پارٹی کی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔

رضا ہارون آج پیر کی صبح ہی لندن سے کراچی پہنچے اور سہ پہر میں مصطفٰی کمال سے جاملے اور الطاف حسین کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وڈیروں اور جاگیرداروں کے خلاف باتیں کرنے والے خود جاگیردار بن گئے ہیں۔ ایم کیو ایم ایک شخص کی پوجا کیلئے نہیں بنائی گئی تھی مڈل کلاس کی جماعت والے اپر کلاس بن چکے ہیں۔ کراچی ہی نہیں لندن میں بھی خود ایم کیو ایم کے کارکن الطاف حسین کے رویے سے تنگ ۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہر ایک کو گالی دینا اور پھر معافی مانگ لینا الطاف حسین کا وطیرہ بن چکا ہے

رضا ہارون نے مطالبہ کیا کہ الطاف حسین کی تقاریر پر سے پابندی ہٹا دی جائے کیونکہ پابندی سے الطاف حسین کو فائدہ پہنچ رہا ہے انکی حقیقت عوام کے سامنے نہیں آپارہی انہوں نے دعوٰی کیا کہ الطاف حسین کی تقاریر پر پابندی سے سب سے زیادہ ایم کیو ایم کے رہنما خوش ہیں کیونکہ اب کسی بات کی وضاحت نہیں کرنی پڑتی اور مائنس ون کی آواز باہر سے نہیں اندر سے ہی آرہی ہے۔

پریس کانفرنس میں مصطفٰی کمال کا کہنا تھا کہ وہ اپنی پارٹی کے نام کا اعلان 23 مارچ کو منعقد کیے جانے والے جلسے میں کریں گے جبکہ انیس احمد قائم خانی نے کہا کہ گذشتہ روز ایف آئی اے کے ڈائریکٹر شاہد حیات ملاقات کیلئے آئے تھے تاہم ان کو کوئی ثبوت نہیں دیا گیا ہے۔ شاہد حیات نے تحقیقات میں مدد مانگی ہے ایک سوال کے جواب میں مصطفٰی کمال کا کہنا تھا کہ یہاں فاروق ستار کی اتنی تعریفیں ہورہی ہیں کہ ایک دو پریس کانفرنس کے بعد ایم کیو ایم والے فاروق ستار کو خود ہی ہمارے پاس چھوڑ جائیں گے۔

Altaf Hussain

الطاف حسین

رضا ہارون کی پریس کانفرنس سے صفائی مہم کے دوران فاروق ستار نے ڈوچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ قیاس آرائیوں پر بات نہیں کرتا لیکن دعا ہے کہ اللہ رضا ہارون کو ہدایت دے۔ میڈیا اس وقت ایم کیو ایم کے چند منحرف لوگوں کو اہمیت دے رہا ہے مگر سمندر سے چند بالٹیاں نکالنے سے فرق نہیں پڑتا۔ فاروق ستار کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے رضا ہارون نے کہا کہ فاروق ستار کی دعا قبول ہوگئی

جبکہ ایم کیو ایم کے اندر ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کا عمل جاری ہے اور ذرائع کے مطابق مصطفٰی کمال کا اگلا ہدف فیصل سبزواری اور حیدر عباس رضوی ہیں تاہم حیدر اس وقت کینڈا میں ہیں اور فیصل سبزواری آج ہی امریکہ کیلئے روانہ ہوئے ہیں۔ ارتضٰی فاروقی، عدنان احمد اور ایک خاتون سمیت کئی رکن سندھ اسمبلی بھی جلد ایم کیو ایم سے منحرف ہوکر مصطفٰی کمال کے قافلے میں شامل ہوسکتے ہیںمعروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کے مطابق موجودہ صورت حال سے ایم کیو ایم کو نقصان تو ہورہا ہے لیکن کتنا نقصان ہورہا ہے اس کا اندازہ آئندہ ماہ کے آخر میں ہونے والے کراچی کے ضمنی انتخابات میں زیادہ بہتر طور پر ہوسکے گا۔