1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

رضاکارانہ طور پر واپس جاؤ، بائیس سو یورو ملیں گے

جرمنی کی وفاقی ریاست ہیمبرگ کے حکام کا کہنا ہے کہ صوبے میں رضاکارانہ طور پر وطن لوٹنے والے تارکین وطن کو بائیس سو یورو فراہم کرنے کے منصوبے کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

جرمن اخبار فوکس آن لائن نے ہیمبرگر آبنڈز بلاٹ کے حوالے سے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ ہیمبرگ سے رضاکارانہ طور پر وطن لوٹ جانے والے تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

تارکین وطن کو بڑے پیمانے پر واپس ترکی بھیجنے کی کوشش

یورپ میں پناہ کے متلاشیوں میں اڑتالیس ہزار پاکستانی بھی

اس اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انتظامیہ نے اس رجحان کے فروغ کے لیے اپنی مرضی سے واپس اپنے وطنوں کی جانب لوٹنے والے پناہ گزینوں کو فی کس بائیس سو یورو دینے کا منصوبہ شروع کر رکھا ہے۔

فوکس آن لائن نے یہ بھی لکھا ہے کہ اپنی مرضی سے وطن لوٹنے والے تارکین وطن کو بالعموم معلوم ہوتا ہے کہ انہیں جرمنی میں پناہ ملنے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ رواں برس کے پہلے دو مہینوں کے دوران ہیمبرگ سے 205 پناہ گزین رضاکارانہ طور پر واپس گئے جب کہ 108 غیر ملکیوں کو جبراﹰ ملک بدر کیا گیا۔

ہیمبرگ حکام کا کہنا ہے کہ وطن واپسی کے لیے مالی امداد فراہم کرنے کے اخراجات تارکین وطن کو رہائش اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کے مقابلے میں کافی کم ہیں۔ اس اسکیم کو تارکین وطن میں مقبولیت تو حاصل ہو رہی ہے لیکن سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے تنقید بھی دیکھی جا رہی ہے۔

دوسری جانب جرمنی کی وفاقی وزیر برائے امور خانہ داری مینوئیلا شویزش نے پناہ گزینوں کے کیمپوں میں عورتوں اور بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ وزارت کے مطابق اس منصوبے میں مہاجرین کے رہائشی مراکز میں خواتین کے لیے مشاورتی مراکز کا قیام، خواتین کے لیے الگ رہائش گاہیں اور مختلف اداروں کے مابین تعاون میں بہتری جیسے اقدامات کیے جائیں گے۔

وفاقی وزارت برائے امور خانہ داری کے ترجمان مطابق ابتدائی طور پر پناہ گزینوں کے پچیس مراکز میں یہ منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے اور اس ضمن میں ایک ملین یورو کا بجٹ مقرر کیا گیا ہے۔

شیلٹر ہاؤسز میں خواتین کو بچوں کو ممکنہ تشدد سے بچانے کے لیے سماجی تنظیموں اور ماہرین کی خدمات بھی لی جائیں گی۔ علاوہ ازیں رہائش گاہوں پر متعین عملے کو بھی اس ضمن میں تربیت فراہم کی جائے گی۔

DW.COM