1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

رضاعی کتیا نے دودھ پلا کر بچے کی جان بچا لی

جنوبی امریکی ملک چلی کی پولیس نے کم خوراکی کے شکار ایک ایسے دو سالہ شیر خوار کو زندہ حالت میں اپنی نگہداشت میں لیا ہے، جسے ایک حاملہ کتیا نے اپنا دودھ پلا کر بچایا ہے۔

پولیس کے مطابق چلی کے ایک صحرائی علاقے میں ایک ماں نشے کی حالت میں اپنے بھوکے پیاسے بچے کو تن تنہا چھوڑ کر چلی گئی جہاں پولیس کو یہ لاغر برہنہ بچہ اُس وقت دکھائی دیا جب اس محلے کی ایک حاملہ کتیا اُسے اپنا دودھ پلا رہی تھی۔

اس بچے کو چلی کے دارالحکومت سانتیاگو سے قریب ڈیڑھ ہزار میل شمال کی طرف واقع ایک ہسپتال کے مقامی ڈاکٹر خوان نوئی تک لے جایا گیا۔ یہ بچہ جِلد کی انفیکشن کا شکار ہے اور اُسے جوئیں بھی پڑی ہوئی ہیں۔ حکام کا خیال ہے کہ شدید بھوک یا غذائیت کی کمی کے شکار اس بچے کی جان ایک غریب اور پسماندہ علاقے کے ایک مکینک ورکشاپ میں ’رائنا کوئین‘‘ نامی کتیا کے دودھ پلانے کی وجہ سے بچی ہے۔

Armut in Madagaskar

افریقہ میں لا تعداد بچے کم غذائیت کا شکار ہیں

چلی کی پولیس کے ایک اہلکار گائیاردو نے خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ اس بچے کو ضروری طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ہسپتال سے عارضی طور پر بچوں کی نگہداشت کی مقامی اتھارٹی کے حوالے کر دیا گیا ہے تاہم اُس کی ماں کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا۔ پولیس اہلکار کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے کو کسی قسم کا زخم نہیں لگا ہے تاہم اُس کے قحط زدہ ہونے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔

بعد ازاں اس بچے کا باپ ہسپتال پہنچا تاہم بچے کی حالت زار میں باپ کا کردار واضح نہیں ہے اور نہ ہی یہ پتہ چل سکا ہے کہ جس وقت اس بچے کو کتیا کے پاس دودھ پیتے دیکھا گیا، اُس وقت اس کے ماں باپ کہاں تھے۔

چلی کے نوعمربچوں کی دیکھ بھال کے ادارے ’چلی نیشنل سروس فار مائنرز‘ کے مارسیلا لابرانا نے اس واقعے کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اُنہیں چلی میں ایک بچے کی طرف سے غفلت اور بے حسی برتنے پر سخت خفت اور خجالت محسوس ہو رہی ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے، جہاں ہزاروں افراد نہایت کسمپرسی کی حالت میں بہت زیادہ افراد سے بھری ہوئی کچی بستیوں میں غربت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ مارسیلا لابرانا نے مزید کہا، ’’یہ کہانی ہمارے لیے شدید شرم کا باعث ہے‘‘۔ انہوں نے اس صورتحال کو ’غیر انسانی‘ اور ’قابل مذمت‘ قرار دیا۔

Somalia Hungersnot Lager Flüchtlingslager Kind

بھوک و افلاس کی انتہا

چلی نیشنل سروس فار مائنرز نے اس بچے کے ساتھ ہونے والی غفلت کے خلاف مقدمہ دائر کرا دیا ہے۔ اس سلسلے میں عدالتی کارروائی 22 ستمبر کو متوقع ہے، جس میں یہ فیصلہ بھی کیا جائے گا کہ بچے کی کفالت اور نگہداشت کا حق کسے ملے گا۔