1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

رشوت ستانی میں چین اور روس کا کوئی مقابلہ نہیں، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل

بدعنوانی پر نظر رکھنے والی بین الاقوامی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے دنیا بھر میں رشوت ستانی سے متعلق اپنی تازہ رپورٹ شائع کر دی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بدعنوانی میں روس اور چین کی کمپنیوں کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔

default

چینی صدر ہو جن تاؤ اور روسی وزیر اعظم ولادیمیر پوٹن

ٹرانسپیرنسی نے رشوت کے لین دین کے حوالے سے ہالینڈ اور سوئٹزر لینڈ کے اداروں کی کارکردگی کو متاثر کن قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر سب سے زیادہ رشوت عوامی شعبے میں اور تعمیراتی منصوبوں کے سلسلے میں دی جاتی ہے۔ کرپشن پر نظر رکھنے والی بین الاقوامی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ روس اور چین کی وہ کمپنیاں سب سے زیادہ بدعنوان ہیں، جو بیرون ملک مختلف منصوبوں میں مصروف ہیں۔ اس حوالے سے اس تنظیم نے 30 مختلف ممالک کے تقریباً 3 ہزار سرمایہ کاروں سے بات چیت کی۔ ان میں سے زیادہ تر کا یہ کہنا تھا کہ چین اور روس کےکاروباری ادارے رشوت پیش کرنے سے بالکل نہیں گھبراتے۔ میکسیکو اور انڈونیشیا کی کمپنیوں کا حال بھی کم و بیش ایسا ہی ہے۔

ٹرانسپیرنسی کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ صنعتی شعبے میں رشوت ستانی کے سب سے کم واقعات ہالینڈ اور سوئٹزر لینڈ میں سامنے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ جرمنی، جاپان اور بیلجیم کی صورتحال بھی بہت بہتر ہے۔ برطانیہ اور امریکہ اس فہرست میں آٹھویں اور نویں نمبر پر ہیں۔

برلن میں قائم اس بین الاقوامی تنظیم نے بتایا کہ اس رپورٹ میں امیر صنعتی ملکوں سمیت  28 بڑے ممالک کو شامل کیا گیا۔ تاہم ان میں سےکوئی بھی ملک رشوت ستانی کے واقعات سے پاک نہیں تھا۔ سن 2008 میں آخری مرتبہ رشوت ستانی سے متعلق ایسی رپورٹ شائع کی گئی تھی۔ ٹرانسپیرنسی کے مطابق اس کے بعد سے کئی ملکوں میں پیش رفت ہوئی ہے اور رشوت دینےکے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ بھارت کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ وہاں صورتحال پہلے سے بہتر ہوئی ہے لیکن متعلقہ فہرست میں یہ ملک ابھی بھی بہت نیچے ہے۔ اس تناظر میں سب سے نمایاں کارکردگی کینیڈا اور برطانیہ کی جانب سے سامنے آئی ہے۔

Logo Transparency International Bosnien-Herzegowina Flash-Galerie

ٹرانسپیرنسی نے یہ باتیں تازہ رپورٹ میں کہی ہیں

ٹرانسپیرنسی کے مطابق رشوت کی سب سے زیادہ پیشکش عوامی شعبے اور تعمیراتی منصوبوں کے ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔ ٹرانسپیرنسی نے اپیل کی ہےکہ تمام ملک رشوت اور کرپشن کی روک تھام کے حوالے سے اقوام متحدہ، یورپی یونین اور یورپی سلامتی اور تعاون کی تنظیم کے معاہدوں کی توثیق کریں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے جی ٹوئنٹی ممالک سے بھی کہا ہے کہ وہ فرانس میں ہونے والی اپنی سربراہی کانفرنس میں بیرون ملک دی جانے والی رشوت کے معاملے پر سنجیدگی سے غور کریں اور اس کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کریں۔ اس تنظیم کے مطابق یہ ایک غور طلب مسئلہ ہے کہ چین اور روس جیسے ممالک اس فہرست میں سب سے نیچے ہیں حالانکہ عالمی سطح پر چین کا اثر و رسوخ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے اور توانائی کے شعبے کی وجہ سے روس کی اہمیت بھی زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس