1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

رسد اور طلب حسب معمول، پھر تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیوں؟

عالمی کاروباری منڈیوں میں گذشتہ دنوں تیل کی قیمتوں میں جو بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آیا اس کی وجہ بظاہر اس لئے سمجھ نہیں آتی کہ ماضی قریب میں نہ تو رسد میں کوئی کمی آئی ہےاور نہ ہی طلب میں کوئی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

default

دیگر ملکوں کی طرح فلپائین میں بھی عام صارفین نے ایندھن کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کے خلاف کئی بار مظاہرے کئے

اگرچہ دنیا میں تیل برآمدکرنے والےسب سے بڑے ملک سعودی عرب نے یہ اعلان بھی کردیا ہے کہ وہ جولائی میں اپنے تیل کی یومیہ پیداوار میں دو لاکھ بیرل کا اضافہ کر دے گا۔ تاہم سعودی وزیر تیل علی النعیمی کے جدہ میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے ساتھ ویک اینڈ پر ہونے والی ایک ملاقات میں کئے گئے اس اعلان کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ بین الاقوامی تجارتی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی وجہ کیا ہے اور ان قیمتوں کو کیسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے؟

عالمی منڈیوں میں تیل کی موجودہ قیمتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈوئچے ویلے کے تبصرہ نگار رولف وینکل لکھتے ہیں کہ اس رجحان کی ایک وجہ وہ تجارتی سٹے باز بھی ہیں جو موقع ملتے ہی منافع خوری کی نیت سے خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔