1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

رحم مادر کا پہلا ٹرانسپلانٹ آئندہ برس متوقع

سویڈن کے طبی ماہرین نے کہا ہے کہ وہ ماں کی بچہ دانی کی بیٹی میں پیوند کاری کے سلسلے میں تجربات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آئندہ سال یہ ٹرانسپلانٹ ممکن ہوسکے گا۔

default

بچے دانی کی پیوند کاری کا عمل لاتعداد بے اولاد ماؤں کے لیے بڑی امید

دنیا میں انسانی اعضاء کی پیوند کاری کا اس نوعیت کا یہ پہلا تجربہ ہوگا۔ سویڈن کے محققین کی ایک ٹیم نے سویڈش شہر گوٹھنبُرگ میں اپنی اس طویل ریسرچ کے نتائج منظر عام پر لائے ہیں۔ امراض نسواں کے چھ ماہرین پر مشتمل اس ٹیم کے سربراہ Mats Braenstroem نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو ایک بیان دیتے ہو‌ئے کہا ’ہم اس سلسلے میں ماؤں اور بیٹیوں کے دس جوڑوں کی چھان بین کر رہے ہیں۔ ماں کی بچے دانی کو نکال کر بیٹی میں منتقل کرنے کا یہ عمل آئندہ سال کے شروع میں ہی کیا جا سکے گا‘۔

ڈاکٹر Mats Braenstroem نے مزید بتایا کہ ماں کے رحم کی بیٹی کے جسم میں پیوند کاری کا یہ دنیا کا پہلا کیس ہوگا۔ اس سے قبل 2002 ء میں سعودی عرب میں دو ایسی خواتین جن کی آپس میں کوئی رشتہ داری نہیں تھی، کی بچے دانی کی منتقلی عمل میں لائی گئی تھی۔ تاہم یہ تجربہ اس لیے ناکام ہوگیا کیونکہ انفیکشن کے باعث 14 ہفتوں بعد ڈاکٹروں کو یہ عضو نکالنا پڑا۔

Papillomavirus in Zellen von Gebärmutter

رحم مادر کے اندر اگر انفکشن ہو جائے تو یہ خطوناک ثابت ہو سکتا ہے

ڈاکٹر Mats Braenstroem نے مزید بتایا کہ سویڈن کی Sahlgrenska یونیورسٹی سے منسلک ماہرین کی بین الاقوامی ٹیم کی یہ تحقیق ایک عشرے پر محیط ہے۔ اس تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے اب تک یہ تجربات جانوروں پرکیے ہیں۔ ڈاکٹروں کو توقع ہے کہ ماں سے بیٹی میں رحم یا بچے دانی کی منتقلی کے اس عمل میں پیچیدگی دیکھنے میں نہیں آئے گی۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس پیوند کاری کی کامیابی میں کوئی شک نہیں کیونکہ ماں اور بیٹی کے رحم کے ٹشوز یا خلیے میں بہت زیادہ مماثلت پائی جاتی ہے اور اس امر کا امکان بہت ہی کم ہوتا ہے کہ یہ ایک دوسرے کے ساتھ میچ نہیں کریں گے۔

جسمانی اور نفسیاتی تجربے سے گزرنے والی ماؤں اور بیٹیوں کے دس جوڑوں میں سے ایک نے سویڈن کے میڈیا کو بیان دیتے ہوئے کہا ’ہم طبی ماہرین کے مشکور ہیں کہ انہوں نے ہمیں اس تجربے میں شامل کیا‘۔ 25 سالہ ایک خاتون جن کے اندر پیدائشی طور پر بچہ دانی موجود نہیں تھی، اس تجربے میں شامل ہیں۔ ان کی 56 سالہ ماں کے رحم کو ان کے جسم میں منتقل کیا جا ئے گا۔ ان کی بیٹی نے سویڈن کے ایک Tabloid Expressen کو بیان دیتے ہوئے کہا ’ مجھے ہمیشہ سے بچوں کا بہت شوق تھا۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران میرے اندر ماں بننے سے محروم ہونے کا دُکھ بہت زیادہ بڑھ گیا تھا‘۔ اس خاتون کی والدہ نے اس موقع پر کہا: ’’والدین اپنی اولاد کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں، کرتے ہیں۔ میری بیٹی کو رحم کی سخت ضرورت تھی، جبکہ میرے لیے اب یہ ضروری نہیں رہا، اس لیے میں نے بہت خوشی سے اپنی بیٹی کو اپنی بچے دانی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘۔

3D-Sonograpphie Ultraschall Baby-Fernsehen in der Chemnitzer Frauenklinik

جرمنی کی متعدد کلینکس میں 3D الٹرا ساؤنڈ کی سہولت میسر ہے

رحم کی پیوندکاری میں شامل یہ ماں بائیالوجی کی ایک ٹیچر ہیں ان کا کہنا ہے کہ عورتوں کی بچے دانی انسانی جسم کے دیگر اعضاء کی طرح کا ایک عضو ہے اس لیے اُن کے لیے اس کی پیوند کاری کوئی تعجب خیز بات نہیں۔

بچے دانی یا رحم مادر کی پہلی پیوند کاری 2002 ء میں سعودی عرب میں ہوئی تھی۔ تب ایک 46 سالہ خاتون نے ایک 26 سالہ عورت کو اپنا یوٹرس یا اپنی بچے دانی ٹرنسپلانٹ کے لیے عطیے کے طور پر دی تھی۔ تاہم اندرونِ جسم خون کی کلوٹٹنگ یا خون کے جمنے کے سبب ڈاکٹروں نے اس خاتون کے جسم میں منتقل کی جانے والی بچے دانی کو نکال دیا تھا۔ اس ناکامی کے باوجود ماہرین نے اُس وقت یوٹرس ٹرانسپلانٹ کے تجربے کو تکتنیکی اعتبار سے کامیاب قرار دیا تھا۔

MDG Tadschikistan Müttersterblichkeit

حمل اور تولد کے دوران پیچیدگیاں جنم لینے سے ماں اور بچے کی جان کو نقصان پہنچ سکتا ہے

دریں اثناء سویڈن کے امراض نسواں کے چھ ماہرین پر مشتمل ٹیم کے سربراہ Mats Braenstroem نے کہا ہے کہ ماں سے بیٹی میں رحم کی منتقلی کا عمل ماضی کے تجربے کی طرح پیچیدہ نہیں ہے، اس لیے اس کی کامیابی انہیں مشکل نظر نہیں آ رہی۔ اُن کے بقول’ ہم نے پُر امیدی کے ساتھ اپنی تکنیک کو ایک طویل عرصے تک جانوروں پر آزمایا، جبکہ سعودی عرب میں یہ تجربہ سیدھے سیدھے انسانوں پر کیا گیا۔ اُن ریسرچرز نے اس سے قبل جانوروں پر کوئی تجربہ نہیں کیا تھا‘۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس